ٹرمپ پالیسی سے اختلاف پر امریکی مشیرِ تجارت مستعفی
مستعفی مشیرِ تجارت کیری کوہن امریکا کے قومی اقتصادی کونسل کے سربراہ بھی تھے
ٹرمپ کی تجارتی پالیسی سے دنیا میں تجارتی جنگ چھیڑ جانے کا خطرہ ہے۔ فوٹو : فائل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے تجارت کیری کوہن نے عالمی تجارتی محصول کی پالیسیوں سےاختلاف پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا.
ٹرمپ انتظامیہ کے اہم رکن اور مشیر تجارت کیری کوہن نے امریکی صدر کی نئی تجارتی پالیسی سے اختلاف کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، مشیر تجارت نے وائٹ ہاؤس سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی عوام کے لیے اپنی خدمات پر فخر کرتا ہوں بالخصوص تاریخی ٹیکس اصلاحات کے ذریعے امریکا کی معاشی صورت حال کو بہتر بنایا۔
مستعفی مشیر تجارت نے مزید کہا ہے کہ ٹرمپ یورپی اسٹیل اورایلومینئم پر ڈیوٹی بڑھانا چاہتے ہیں جب کہ چین کی تیار کردہ گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے اور معاشی جنگ چھیڑنے سے متعلق بیان کے بعد سے حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں جس کے باعث موجودہ حالات میں کام نہیں کرسکتا اس لیے عہدے سے استعفی دیتا ہوں۔
کیری موہن نے جو مشیر تجارت کے علاوہ قومی اقتصادی کونسل کے سربراہ بھی ہیں نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ اقتصادی پالیسیاں امریکا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں اور وائٹ ہاؤس کے ایسے فیصلوں سےعالمی تجارتی جنگ چھڑنےکا خدشہ بڑھ گیا ہے جس سے امریکا دنیا بھر میں تنہا رہ جائے گا۔
خیال رہے 3 مارچ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں امریکی تجارتی پالیسی کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پالیسی کے باعث امریکا کو سالانہ 800 بلین ڈالر کا نقصان اُٹھانا پڑتا ہے جب کہ اس بیان سے قبل وہ تجارتی جنگ چھیڑنے کی بات بھی کی تھی جس کے بعد روس اور چین سمیت عالمی قوتوں نے سخت احتجاج کیا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے اہم رکن اور مشیر تجارت کیری کوہن نے امریکی صدر کی نئی تجارتی پالیسی سے اختلاف کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، مشیر تجارت نے وائٹ ہاؤس سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی عوام کے لیے اپنی خدمات پر فخر کرتا ہوں بالخصوص تاریخی ٹیکس اصلاحات کے ذریعے امریکا کی معاشی صورت حال کو بہتر بنایا۔
مستعفی مشیر تجارت نے مزید کہا ہے کہ ٹرمپ یورپی اسٹیل اورایلومینئم پر ڈیوٹی بڑھانا چاہتے ہیں جب کہ چین کی تیار کردہ گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے اور معاشی جنگ چھیڑنے سے متعلق بیان کے بعد سے حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں جس کے باعث موجودہ حالات میں کام نہیں کرسکتا اس لیے عہدے سے استعفی دیتا ہوں۔
کیری موہن نے جو مشیر تجارت کے علاوہ قومی اقتصادی کونسل کے سربراہ بھی ہیں نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ اقتصادی پالیسیاں امریکا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں اور وائٹ ہاؤس کے ایسے فیصلوں سےعالمی تجارتی جنگ چھڑنےکا خدشہ بڑھ گیا ہے جس سے امریکا دنیا بھر میں تنہا رہ جائے گا۔
خیال رہے 3 مارچ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں امریکی تجارتی پالیسی کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس پالیسی کے باعث امریکا کو سالانہ 800 بلین ڈالر کا نقصان اُٹھانا پڑتا ہے جب کہ اس بیان سے قبل وہ تجارتی جنگ چھیڑنے کی بات بھی کی تھی جس کے بعد روس اور چین سمیت عالمی قوتوں نے سخت احتجاج کیا تھا۔