پی ایچ ایف نے سندھ کیخلاف انتقامی کارروائی شروع کردی

اسپورٹس رپورٹر  جمعـء 13 جولائ 2018
فیڈریشن نے 10 کروڑ کی گرانٹ روکے جانے پر ردعمل دکھایا، اولمپئنزکا دعویٰ۔ فوٹو: فائل

فیڈریشن نے 10 کروڑ کی گرانٹ روکے جانے پر ردعمل دکھایا، اولمپئنزکا دعویٰ۔ فوٹو: فائل

 کراچی: پی ایچ ایف نے سندھ کی نگراں حکومت کی جانب سے عبدالستار ہاکی کلب اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش اور سالانہ گرانٹ روکے جانے پر انتقامی کارروائی شروع کردی۔

فیڈریشن نے انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں شیڈول ایشین گیمز کے لیے جن 27کھلاڑیوں کو قومی کیمپ میں طلب کیا ہے۔ ان میں سندھ کا ایک کھلاڑی بھی شامل نہیں، حیدر آباد کے واحد باصلاحیت کھلاڑی خضرکو نظر انداز کردیا گیا۔

قبل ازیں فیڈریشن کے ارباب اختیار نے سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے خضر کے نام پر ہی اندرون سندھ سے باصلاحیت کھلاڑی کو قومی ٹیم کا حصہ بنانے کی یقین دہانی کراکے 10کروڑ روپے کی سالانہ گرانٹ اور عبدالستار ایدھی ہاکی اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش کی منظوری کروائی تھی۔

سابقہ حکومت نے فوری طورپر 35 لاکھ روپے ادا کرنے کے ساتھ بعد میں 10 کروڑ روپے کی پہلی گرانٹ بھی جاری کردی تھی تاہم اب سندھ کی نگراں حکومت نے عبدالستار ایدھی ہاکی اسٹیڈیم کو انتہائی بوسیدہ قرار دیکر اس کی تزئین و آرائش کے لیے پی سی ون کو روکنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عبدالستار ایدھی کے نام سے منسوب ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم کو منہدم کرکے دوبارہ بنانے کی ضرورت ہے جبکہ اس کی تزئین آرائش پر رقم خرچ کرنا وقت اور پیسہ ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔

دوسری طرف سابقہ حکومت کی جانب سے فیڈریشن کے لیے منظور کردہ سالانہ گرانٹ کو غیر قانونی قرار دیکر اسے بھی ختم کرکے اب تک دی جانی والی گرانٹ کو بھی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کسی بھی فیڈریشن کو گرانٹ نہیں دے سکتی، وہ صرف صوبے میں کام کرنے والی کھیلوں سے وابستہ ایسوسی ایشنز کو گرانٹ دینے کی مجاز ہے۔

ہاکی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایشیاکپ، کامن ویلتھ گیمز کے لیے اسٹینڈ بائی، چیمپیئنز ٹرافی کے لیے کیمپ میں شامل اور 4 ملکی ہاکی ٹورنامنٹ میں قومی ٹیم کا حصہ رہنے والے خضر کو سیاست اور لالچ کی نظر کرنا میرٹ کا قتل اور قومی کھیل کی تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کے برابر ہوگا، 14جولائی سے عبدالستار ایدھی ہاکی کلب میں ایشین گیمز کے لیے لگنے والے کیمپ میں شامل ہونا خضر کا حق ہے، پی ایچ ایف پیسوں کی خاطر ایسی حرکتوں پر اتر آئی ہے۔

سابق اولمپئنز کا کہنا ہے کہ کراچی میں متوازی ایسوسی ایشن بنانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ کوئی فیڈریشن کی من مانیوں پر آواز نہ اٹھائے جبکہ سندھ اولمپک ایسوسی ایشن سے الحاق نہ رکھنے والی من پسند صوبائی ہاکی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ فیڈریشن کے سامنے لب کشائی کرسکیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔