این اے 250 کے صرف 43 پولنگ اسٹیشنز پرانتخابات کرانا ناانصافی ہے فاروق ستار

انصاف کے تقاضے تب ہی پورے پوں گے جب حلقے میں الیکشن صاف، شفاف اور غیر جاندارانہ ہوں، ڈاکٹر فاروق ستار

این اے 250 پرانتخابات کے روز پولنگ اسٹیشنر پر جس طرح کی بدنظمی اور بدانتظامی دیکھنے میں آئی اس کی مثال نہیں ملتی، ڈاکٹر فاروق ستار فوٹو: فائل

KARACHI:
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 250 پر انصاف کے تقاضے تب ہی پورے پوں گے جب پورے حلقے میں صاف، شفاف اورغیرجانبدارانہ انتخابات کرائے جائیں۔


چیف الیکشن کمشنز جسٹس(ر) فخرالدین جی ابراہیم سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ہمارا مؤقف ہے کہ حلقہ این اے 250 کے صرف 43 نہیں تمام 180 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ الیکشن کرائے جائیں ،الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ افسر کے کہنے پر صرف 42 اور 43 پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کرانے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ سراسر ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 11 مئی کو پولنگ اسٹیشنر پر جس طرح کی بدنظمی اور بدانتظامی دیکھنے میں آئی ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، تقریبا تمام پولنگ اسٹیشنوں پر بیلٹ باکس تاخیر سے پہنچے جبکہ کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کے اوقات ختم ہونے کے بعد بیلٹ باکس پہنچائے گئے اورپولنگ اسٹاف بھی وقت پر نہیں پہنچا، جو حالات 42 پولنگ اسٹیشنر پر تھے وہی حلقے کے تمام پولنگ اسٹیشنز پر تھے، انتخابات کے روز 11 بجے کے قریب ہم نے ریٹرننگ آفیسر سے رابطہ کیا تو وہ گھر جاچکے تھے۔

فاروق ستار نے کہا کہ تمام پولنگ اسٹیشنوں میں کیسے تمیز کی جائے گی، کیا یہ منظور نظر پولنگ اسٹیشنز ہیں جن میں ووٹرز کو یہ موقع دیا جارہا ہے کہ وہ دوبارہ جائیں اور ووٹ کاسٹ کریں،کس پیمانے کے تحت یہ امتیاز کیا جارہا ہے، انصاف کے تقاضے تب ہی پورے پوں گے جب الیکشن صاف،شفاف اور غیر جانبدارانہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ امیدوارالیکشن سے دستبردار ہوگئے تھے اب اس کے ووٹرز بھی چاہیں تو وہ باقی امیدواروں کو ووٹ دے سکتے ہیں تو پھر بقیہ پولنگ اسٹیشنز کے ووٹرز کو یہ منصفانہ موقع بھی فراہم کیا جانا چاہئے کہ وہ باقی امیدواروں میں سے کسی ایک کو منتخب کرسکیں، ہم عوام کے سیاسی، جمہوری اور آئینی حق کی بات کرتے ہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story