ترکی سے رہائی پانے والے امریکی پادری کی صدر ٹرمپ سے ملاقات

ترکی میں امریکی پادری کو ناکام فوجی بغاوت میں معاونت کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا

امریکی پادری کی رہائی کا معاملہ ترکی اور امریکا کے درمیان تناؤ کا باعث بنا تھا۔ فوٹو : ٹویٹر

ترکی سے رہائی پانے والے امریکی پادری اینڈریو برونسن امریکا پہنچ گئے جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی ملاقات ہوئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور ترکی کے درمیان تنازعے کا باعث بننے والے امریکی پادری اینڈریو برونسن امریکا پہنچ گئے جہاں اُن کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی۔

ترکی سے رہائی کے بعد وہ جرمنی گئے تھے جہاں اُن کا طبی معائنہ کیا گیا جس کے بعد وہ اپنے وطن کے لیے روانہ ہوئے اور گزشتہ شب واشنگٹن پہنچے۔

امریکی پادری کی صدر ٹرمپ سے ملاقات وائٹ ہاؤس میں ہوئی۔ اس موقع پر ایک مختصر سی دعائیہ تقریب بھی رکھی گئی تھی جس میں صدر ٹرمپ نے بھی شرکت کی۔

یہ خبر بھی پڑھیں : بغاوت میں ملوث پادری کو رہا نہ کرنے پر امریکی صدر کی ترکی کو دھمکی

امریکی پادری 2016 میں ناکام فوجی بغاوت کے وقت ترکی ہی میں مقیم تھے اور ترک حکومت نے انہیں بغاوت میں معاونت کرنے اور جلاوطن ترک اپوزیشن لیڈر فتح اللہ گولن کے حمایتی ہونے کے شبہ میں گرفتار کرلیا تھا۔


امریکی پادری دو سال تک جیل میں الزامات کا سامنا کرتے رہے تاہم رواں برس 27 جولائی کو ترک عدالت نے اینڈریو برونسن کو گھر میں نظر بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

امریکی پادری کی نظربندی پر امریکا اور ترکی کے درمیان تناؤ پیدا ہوگیا تھا اور امریکی صدر نے پادری اینڈریو برونسن کی عدم رہائی پر ترکی کو سخت پابندیوں کا سامنا کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔

ترک حکومت کا موقف تھا کہ ترکی کا عدالتی نظام صاف و شفاف انصاف کی فراہمی کی مکمل اہلیت رکھتا ہے اور امریکی پادری اینڈریو برونسن کے معاملے پر بھی حکومت عدالتی فیصلوں پرعمل درآمد کرانے کی پابند ہے۔

تاہم امریکا اور ترکی کے درمیان یہ تناؤ دو روز قبل اس وقت ختم ہو گیا جب ترک شہر ازمیر کی ایک عدالت نے امریکی پادری کو رہا کرنے کا حکم دیا۔



 
Load Next Story