مقبوضہ کشمیر میں زندگی اجیرن 4 ہزار گرفتار درجنوں زخمی
گھٹن اور جبر کے اس ماحول میں محصور کشمیریوں کو جب بھی موقع ہاتھ آتا ہے احتجاج کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں
5 اگست سے مسلسل کرفیو کے باعث دواؤں اور غذائی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ فوٹو : فائل
KARACHI:
مقبوضہ کشمیر میں مسلسل دو ہفتوں سے جاری کرفیو سے عوام کا جینا دو بھر ہو گیا ہے اور اب غذائی قلت کے خطرات بھی منڈلانے لگے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 5 اگست کو مودی سرکار کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35-اے کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت اور نیم خود مختاری ختم کردی گئی تھی، بزدل بھارتی حکومت نے کسی ممکنہ احتجاج کے پیش نظر کرفیو نافذ کردیا تھا جو تاحال جاری ہے۔
زخم خوردہ کشمیریوں نے کرفیو میں کچھ دیر کی نرمی کے دوران بڑے اجتماعات کی اجازت نہ دینے پر بحالت مجبوری نماز عید الاضحیٰ کے چھوٹے چھوٹے اجتماعات منعقد کیے جب کہ اکثریت کو قربانی کے فریضے کی ادائیگی کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔
نہتے کشمیری قابض بھارتی فوج کی جارحیت کے خلاف گزشتہ رات سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرہ کیا، بھارتی فورسز نے پیلٹ گنز ، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور مرچوں والے بموں سے کشمیریوں کا حوصلہ توڑنے کی ناکام کوشش کی، اس دوران 24 کشمیری نوجوان زخمی ہوگئے۔
مظاہروں کے بعد خوف زدہ انتظامیہ نے کرفیو مزید سخت کردیا، قابض بھارتی فورسز ہر گھر کے باہر پہرہ دے رہی ہیں ۔ ذرا سی نقل و حرکت پر بنا کسی قصور کے کشمیروں کی بے دریغ گرفتاریاں جاری ہیں، گرفتار اور نظر بند کشمیریوں کو حراست میں رکھنے کیلئے جگہیں کم پڑگئی ہیں۔
عالمی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی اقدام کے بعد سے اب تک 4 ہزار کشمیریوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جب کہ فورسز سے جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں تاحال ذرائع مواصلات پر پابندی جاری ہے، کوئی اخبار شائع ہو رہا ہے اور نہ ہی کوئی ٹی وی چینل نشر ہو رہا ہے، بیمار اور بزرگ افراد ادویات کی عدم فراہمی کے باعث پریشان ہیں جبکہ گھروں میں محصور افراد کے سروں پر غذائی قلت کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
گھٹن کے اس ماحول میں بھی کشمیری اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، جب اور جہاں موقع ملتا ہے مودی سرکار و قابض بھارتی فورسز کے خلاف اور جدوجہد آزادی کشمیر کے حق میں نعرے بازی کی جاتی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں مسلسل دو ہفتوں سے جاری کرفیو سے عوام کا جینا دو بھر ہو گیا ہے اور اب غذائی قلت کے خطرات بھی منڈلانے لگے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 5 اگست کو مودی سرکار کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35-اے کو منسوخ کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت اور نیم خود مختاری ختم کردی گئی تھی، بزدل بھارتی حکومت نے کسی ممکنہ احتجاج کے پیش نظر کرفیو نافذ کردیا تھا جو تاحال جاری ہے۔
زخم خوردہ کشمیریوں نے کرفیو میں کچھ دیر کی نرمی کے دوران بڑے اجتماعات کی اجازت نہ دینے پر بحالت مجبوری نماز عید الاضحیٰ کے چھوٹے چھوٹے اجتماعات منعقد کیے جب کہ اکثریت کو قربانی کے فریضے کی ادائیگی کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔
نہتے کشمیری قابض بھارتی فوج کی جارحیت کے خلاف گزشتہ رات سڑکوں پر نکل آئے اور مظاہرہ کیا، بھارتی فورسز نے پیلٹ گنز ، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور مرچوں والے بموں سے کشمیریوں کا حوصلہ توڑنے کی ناکام کوشش کی، اس دوران 24 کشمیری نوجوان زخمی ہوگئے۔
یہ خبر بھی پڑھیں : بھارتی اقدامات سے کشمیری عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی، ایمنسٹی انٹرنیشنل
مظاہروں کے بعد خوف زدہ انتظامیہ نے کرفیو مزید سخت کردیا، قابض بھارتی فورسز ہر گھر کے باہر پہرہ دے رہی ہیں ۔ ذرا سی نقل و حرکت پر بنا کسی قصور کے کشمیروں کی بے دریغ گرفتاریاں جاری ہیں، گرفتار اور نظر بند کشمیریوں کو حراست میں رکھنے کیلئے جگہیں کم پڑگئی ہیں۔
عالمی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی اقدام کے بعد سے اب تک 4 ہزار کشمیریوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جب کہ فورسز سے جھڑپوں میں درجنوں افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں تاحال ذرائع مواصلات پر پابندی جاری ہے، کوئی اخبار شائع ہو رہا ہے اور نہ ہی کوئی ٹی وی چینل نشر ہو رہا ہے، بیمار اور بزرگ افراد ادویات کی عدم فراہمی کے باعث پریشان ہیں جبکہ گھروں میں محصور افراد کے سروں پر غذائی قلت کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
گھٹن کے اس ماحول میں بھی کشمیری اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، جب اور جہاں موقع ملتا ہے مودی سرکار و قابض بھارتی فورسز کے خلاف اور جدوجہد آزادی کشمیر کے حق میں نعرے بازی کی جاتی ہے۔