مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے جبر پر ایک اور بھارتی سول بیوروکریٹ احتجاجاً مستعفی

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر میرا سول سروس میں رہنا غیر اخلاقی عمل ہوگا، ڈپٹی کمشنر سسی ناتھ

قبل ازیں ایک سول افسر کنان گوپی ناتھ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر پہلے ہی مستعفی ہوچکے ہیں۔ فوٹو : بھارتی میڈیا

بھارت میں ایک ماہ کے دوران دوسرے سول بیوروکریٹ افسر نے مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے غیر آئینی اقدامات پر احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کرناٹکا کے ضلع ڈکشن کنڑ کے ڈپٹی کمشنر سسی کانتھ سینتھل نے مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی پالیسیوں سے شدید اختلاف کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ 40 سالہ ڈپٹی کمشنر کا انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس آفیسر کے 2009 کے بیچ سے تعلق تھا۔

سسی کانتھ سینتھل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے، غیر آئینی بل پر عمل درآمد کے لیے ایسے اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ ایسی صورت حال میں میرا سول سروس میں رہنا غیر خلاقی ہوگا۔


یہ خبر بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں جارحیت کے خلاف بھارتی سرکاری افسر مستعفی

سسی کانتھ سینتھل کا استعفیٰ منظر عام پر آنے کے باوجود مودی سرکار اپنی ڈھٹائی پر قائم ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ استعفیٰ ذاتی وجوہات کی بناء پر دیا گیا ہے جسے منظور کرلیا گیا ہے۔ قبل ازیں بیوروکریٹ کنان گوپی ناتھن نے مقبوضہ کشمیر کی دگر گوں حالت پر استعفیٰ دے دیا تھا۔

یہ خبر پڑھیں: بھارت کا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم اور 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان

واضح رہے کہ مودی سرکار نے 5 اگست کو آرٹیکلز 370 اور 35-اے کو منسوخ کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور اسے جغرافیائی طور پر 2 حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ اس غیر آئینی اقدام پر احتجاج کو روکنے کے لیے تاحال وادی بھر میں کرفیو نافذ ہے اور کشمیری بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔
Load Next Story