ٹرمپ کے گرد گھیرا مزید تنگ ایک اور ’سرکاری مخبر‘ کی گواہی
یوکرائنی صدر سے گفتگو میں امریکی صدر نے اپنے سیاسی حریف کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالا تھا
خفیہ ادارے کے ایک اور اہلکار نے صدر ٹرمپ کیخلاف معلومات فراہم کرنے کی پیشکش کردی۔ فوٹو : فائل
ٹرمپ کے مواخذے کا عمل تیزی سے جاری ہے جس میں یوکرائنی صدر سے مشکوک گفتگو کے ایک اور سرکاری مخبر کے گواہی کے لیے سامنے آنے سے امریکی صدر کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرائنی صدر زیلنسکی سے خفیہ ٹیلی فونک گفتگو میں آئندہ صدارتی الیکشن میں اپنے مخالف امیدوار اور سیاسی حریف جوئے بائیڈن کیخلاف تحقیقات شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا اور یوکرائن کو فوجی امداد کی مد میں دی جانے والی رقم کو جوئے بائیڈن کیخلاف تحقیقات سے مشروط کردیا تھا۔
یہ خبر پڑھیں: کرپشن کی تحقیقات کیلیے دوسرے ملک سے مدد طلب کرنا میرا اختیارہے، ٹرمپ
امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی معاون برائے یوکرائن کُرٹ ڈی وولکر نے امریکی صدر کی جولائی میں کی گئی اس گفتگو کو مشکوک اور غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو شکایت درج کرائی تھی جس میں امریکی صدر کے ایک مشکوک وعدے کی تکمیل کا ذکر کیا گیا تھا۔ اب ایک اور اطلاع دہندہ نے حکام سے رابطہ کرلیا ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: ٹرمپ کا مواخذہ شروع، پارلیمان نے حساس دستاویز تک رسائی مانگ لی
مذکورہ شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے تاہم اُن کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کا موکل ایک امریکی انٹیلیجنس کا ایک اہلکار ہے اور ان کے پاس صدر ٹرمپ کی یوکرائنی ہم منصب سے گفتگوکے بارے میں براہ راست معلومات ہیں تاہم یہ معلومات صرف متعلقہ حکام کو ہی فراہم کی جائیں گی۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرائنی صدر زیلنسکی سے خفیہ ٹیلی فونک گفتگو میں آئندہ صدارتی الیکشن میں اپنے مخالف امیدوار اور سیاسی حریف جوئے بائیڈن کیخلاف تحقیقات شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا اور یوکرائن کو فوجی امداد کی مد میں دی جانے والی رقم کو جوئے بائیڈن کیخلاف تحقیقات سے مشروط کردیا تھا۔
یہ خبر پڑھیں: کرپشن کی تحقیقات کیلیے دوسرے ملک سے مدد طلب کرنا میرا اختیارہے، ٹرمپ
امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی معاون برائے یوکرائن کُرٹ ڈی وولکر نے امریکی صدر کی جولائی میں کی گئی اس گفتگو کو مشکوک اور غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو شکایت درج کرائی تھی جس میں امریکی صدر کے ایک مشکوک وعدے کی تکمیل کا ذکر کیا گیا تھا۔ اب ایک اور اطلاع دہندہ نے حکام سے رابطہ کرلیا ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: ٹرمپ کا مواخذہ شروع، پارلیمان نے حساس دستاویز تک رسائی مانگ لی
مذکورہ شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے تاہم اُن کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کا موکل ایک امریکی انٹیلیجنس کا ایک اہلکار ہے اور ان کے پاس صدر ٹرمپ کی یوکرائنی ہم منصب سے گفتگوکے بارے میں براہ راست معلومات ہیں تاہم یہ معلومات صرف متعلقہ حکام کو ہی فراہم کی جائیں گی۔