بھارت کا بغیر اطلاع پاکستانی دریاؤں میں اضافی پانی چھوڑنے کا انکشاف
کورونا کا بہانہ بنا کر بھارت انڈس واٹر کمیشن کا اجلاس بلانے نے سے گریز کر رہا ہے، ذرائع
پاکستان نے بھارت کو پانی کے اخراج کے حوالے سے بروقت معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔(فوٹو، فائل)
پاکستان میں مون سون کی طوفانی بارشوں سے دریاؤں میں سیلابی کیفیت کے خدشات کے بعد ایک اور خطرہ سر اٹھانے لگا اور بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع دیے پانی کا زیادہ اخراج شروع کردیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق واٹر کمیشن کے ذرائع نے کہا ہے کہ مرالہ کے مقام پر اس وقت تقریبا ڈیرھ لاکھ کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے اور یہاں سے چار لاکھ کیوسک تک پانی گیا تو خطرناک ہو گا۔
ذرائع نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے قبل بروقت اطلاع دینے کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ بھارت کو 22 اگست کو بھی خط لکھا تھا کہ وہ معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
یہ خبر بھی پڑھیے: محکمہ موسمیات نے پنجاب کےدریاؤں میں سیلاب کی وارننگ جاری کردی
کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کورونا کا بہانہ بنا کر بھارت انڈس واٹر کمیشن کا اجلاس بلانے نے سے گریز کر رہا ہے اور مسلسل حیلے بہانوں سے کام لیا جارہا ہے۔
ذرائع انڈس واٹر کمیشن کا کہنا ہے کہ پا کستان نے بھارت کو پانی کے اخراج کے حوالے سے بروقت معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں محکمہ موسمیات مون سون کے دوران تیز بارشوں کے نتیجے میں ملک کے مختلف دریاؤں میں طغیانی اور سیلابی ریلے آنے کا خدشہ ظاہر کرچکا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق واٹر کمیشن کے ذرائع نے کہا ہے کہ مرالہ کے مقام پر اس وقت تقریبا ڈیرھ لاکھ کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے اور یہاں سے چار لاکھ کیوسک تک پانی گیا تو خطرناک ہو گا۔
ذرائع نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے قبل بروقت اطلاع دینے کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ بھارت کو 22 اگست کو بھی خط لکھا تھا کہ وہ معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
یہ خبر بھی پڑھیے: محکمہ موسمیات نے پنجاب کےدریاؤں میں سیلاب کی وارننگ جاری کردی
کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کورونا کا بہانہ بنا کر بھارت انڈس واٹر کمیشن کا اجلاس بلانے نے سے گریز کر رہا ہے اور مسلسل حیلے بہانوں سے کام لیا جارہا ہے۔
ذرائع انڈس واٹر کمیشن کا کہنا ہے کہ پا کستان نے بھارت کو پانی کے اخراج کے حوالے سے بروقت معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں محکمہ موسمیات مون سون کے دوران تیز بارشوں کے نتیجے میں ملک کے مختلف دریاؤں میں طغیانی اور سیلابی ریلے آنے کا خدشہ ظاہر کرچکا ہے۔