گھریلو باغیچہ: اچھی صحت کا راز

فریدہ خالد  اتوار 22 نومبر 2020
گھریلو باغیچہ مہنگائی اور غذائی کمی کے مسئلے کا بہترین حل ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

گھریلو باغیچہ مہنگائی اور غذائی کمی کے مسئلے کا بہترین حل ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

گھریلو باغیچے کو باورچی خانہ باغیچہ بھی کہتے ہیں۔ یہ گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت کا عمل ہے۔ صدیوں سے انسان اپنے گھر میں سبزیاں اگاتا آیا ہے تاکہ اپنی غذا کا بندوبست کرسکے۔ سبزیاں انسانی خوراک کا ایک اہم جزو ہیں اور اچھی صحت کا راز بھی۔ یہ تھوڑی سی زمین یا گملوں، ڈبوں، پلاسٹک کی بوتلوں اور لکڑی کے کریٹس میں کاشت کی جاسکتی ہیں۔

صحت کے حوالے سے گھریلو باغیچے کے کئی فوائد ہیں۔
غذائی و طبی فائدے

پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں خوش قسمتی سے چاروں موسم پائے جاتے ہیں اور ان موسموں میں مختلف اقسام کی پیداوار ممکن ہوتی ہے۔ یعنی سال بھر کوئی نہ کوئی سبزی حاصل کی جاسکتی ہے۔ سبزیوں کو ان کی غذائی و طبی افادیت کی بنا پر ’’حفاظتی غذا‘‘ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ان میں صحت کو برقرار رکھنے اور جسم کی بہترین نشوونما کےلیے تمام ضروری غذائی اجزا مثلاً نشاستہ، لحمیات، حیاتین اور نمکیات وغیرہ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ بیماریوں سے بچاؤ اور علاج میں بھی سبزیوں کی افادیت مسلمہ ہے۔

سبزیاں جسم سے فاضل مادوں کے اخراج میں مدد دیتی ہیں، آنتوں میں کولیسٹرول کی تہوں کی صفائی کرتی ہیں اور دماغ کی نشوونما کےلیے اکسیر ہیں۔ ان کا متوازن استعمال جسم میں مختلف بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے اور معدے کی تیزابیت کو ختم کرتا ہے۔ اسی بنا پر یہ انسانی غذا کا ایک بنیادی جزو ہیں۔
مجموعی صحت بہتر بنانے کا ذریعہ

باغبانی ایک زبردست مشغلہ ہے جو انسان کی جسمانی، روحانی اور ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ عمدہ جسمانی ورزش ہے جو وزن گھٹاتی اور صحت بڑھاتی ہے۔ وزن کی زیادتی بذاتِ خود کئی بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ گھر میں اُگنے والی بہت سی سبزیاں انسان کی کئی غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں پچاس فیصد سے زیادہ حاملہ خواتین فولاد کی کمی کے باعث خون کی کمی کا شکار ہوتی ہیں، جبکہ فولاد سبزیوں میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ گھریلو باغیچہ غذائی کمی کے مسئلے کا بہترین حل ہے۔

اسی طرح حدیث سے کدو کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ غمگین دل کو مضبوط کرنے والی سبزی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ’’اے عائشہؓ جب تم ہانڈی پکایا کرو تو اس میں کدو ڈال لیا کرو، کیونکہ یہ غمگین دلوں کےلیے تقویت ہے‘‘۔ میتھی کے بارے میں ہے ’’میری امت اگر میتھی کے فوائد کو سمجھ لے تو وہ اسے سونے کے ہم وزن خریدنے سے بھی دریغ نہ کرے‘‘۔ آج ہمیں معلوم ہے کہ میتھی میں نظام تنفس کے مختلف امراض مثلاً دمہ، دل کے امراض، زکام اور کئی دوسری بیماریوں کےلیے شفا ہے۔

علاوہ ازیں رنگ برنگی سبزیوں کے پودے گھروں کی آرائش، ماحول کی خوبصورتی اور ذہنی سکون میں اضافہ کرتے ہیں۔ دن بھر پودوں پر اڑتی رنگ برنگی تتلیاں اور پرندے اپنی مسحورکن آوازوں سے ماحول میں سرور بھر دیتے ہیں۔
پودے، صدقۂ جاریہ

نبیؐ نے درخت لگانے کی بڑی تاکید کی ہے اور انہیں بلاوجہ کاٹنے سے منع فرمایا ہے۔ پودے صرف ہماری دنیا ہی نہی بلکہ آخرت سنوارنے کےلیے بھی ضروری ہیں۔ سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ نے فرمایا: ’’جس مسلمان نے کوئی درخت لگایا اور اس کا پھل آدمیوں اور جانوروں نے کھایا تو اس لگانے والے کےلیے صدقہ کا ثواب ہے۔‘‘ (بخاری)۔

 

ماحول اور موسم میں بہتری کا ذریعہ

قدرت نے بہت سے ایسے پودے پیدا کیے ہیں جن سے مختلف زراعتی اور ماحولیاتی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں اور جدید تحقیق کے مطابق انہیں گھریلو باغیچے میں باآسانی اگایا جاسکتا ہے۔ مثلاً پودینہ جو کئی اقسام کے کیڑے مکوڑوں سے نجات کےلیے بے مثال ہے۔ پودینہ کھانے کے جہاں کئی فائدے ہیں، وہیں اس کی خوشبو مکھی، مچھر کو بھگانے میں کارآمد ہے۔ جس کمرے میں اس کا گملا رکھا ہو مچھر وہاں سے بھاگ جائے گا اور انسان ملیریا اور ڈینگی جیسے امراض سے بچ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں پودے فضا میں آکسیجن خارج کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ یعنی بری ہوا کو جذب کرکے ہمارے گھروں کو فضائی آلودگی سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

درختوں کی کمی سے ماحول میں بڑھتی گرمی جہاں ایک طرف خشک سالی کا باعث ہے، وہیں دوسری طرف شدید بارشوں، سیلابوں اور طوفانوں سے تباہیوں کا باعث رہی ہے۔ پاکستان میں پچھلے کئی برسوں سے معمول سے زیادہ اور بے وقت بارشوں کی وجہ سے کھیتوں میں فصلیں برباد ہوجاتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر لوگ اپنے گھر وں میں اونچی زمین پر زیادہ سے زیادہ مختلف اقسام کے پھل اور سبزیاں اگائیں اور مرغیاں رکھیں، تو کم سے کم وہ غذا کی کمی کا شکار نہ ہوں گے۔ موجودہ حکومت نے درختوں کی کمی پر قابو پانے کی مختلف کوششیں کیں، جن میں ’دس بلین درخت لگاؤ‘ مہم شامل ہے۔

 

بچت کرنے اور آمدن بڑھانے کا ذریعہ

ایک طرف گھریلو باغیچے سے بچت بھی ممکن ہے۔ ہمارے گھروں میں آمدنی کا بڑا حصہ کچن کی اشیا خریدنے کے کام آتا ہے۔ جب روزانہ کی سبزی گھر ہی سے مل جائے تو یہ رقم بچ جائے گی۔ اور سبزیوں کو مختلف گھریلو ٹوٹکوں میں استعمال کرکے بھی بچت ممکن ہے۔

دوسری طرف زائد پودوں اور سبزیوں کا کاروبار آمدن بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ پودے مختلف نرسریوں اور اداروں کو سپلائی کیے جاسکتے ہیں، جبکہ گھر کی تازہ، کیمیکل سے پاک اور صاف پانی میں اُگنے والی نامیاتی سبزیاں آج کل ناپید ہیں اور بڑے شہروں میں بہت مہنگی ہیں۔ ان سبزیات کا کاروبار نفع بخش ہے۔ اسی طرح ہم جانتے ہیں کہ زمانہ قدیم سے حسن کو نکھارنے کےلیے گھریلو ٹوٹکوں میں بھی سبزیاں استعمال ہوتی آئی ہیں۔ ان سبزیوں سے مختلف بیوٹی مصنوعات گھر پر تیار کرکے ان کا کاروبار فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

ایک مرتبہ گھریلو باغیچے کا تجربہ ضرور کیجئے اور بے شمار فوائد حاصل کیجئے۔

 

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔