ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے

صابر کربلائی  اتوار 26 ستمبر 2021

’’ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے‘‘ یہ نعرہ تحریک آزادی کشمیر کے مجاہد اور حریت پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی کی زبان سے ایسے وقت میں جاری ہوا تھا کہ جب بھارت کی ریاستی دہشت گردی مقبوضہ کشمیر میں عروج پر تھی۔ انھوں نے اس نعرہ کو ایسے وقت میں بلند کیا کہ جب بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور جبر پاکستان کے نام لینے کو بھی جرم قرار دے کر نوجوانوں کے سینوں کو گولیوں سے چھلنی کردیتی تھی۔

بطور پاکستانی جب میں اس نعرہ کی گہرائی میں جانے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ فقط ایک نعرہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک طرف مظلوموں کی امید ہے تو دوسری طرف پاکستان کے باسیوں کے لیے ایک سبق ہے۔ لاکھوں کشمیری حریت پسند جو تہتر سالوں سے بھارت کے ریاستی ظلم و جبر کا مقابلہ کررہے ہیں وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ آزادی کی قیمت خون سے چکانا پڑتی ہے ، وہ شاید یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان ہی ان کی پہلی اور آخری امید بھی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جس بصیرت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر سے ’’ ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے‘‘ کا نعرہ بلند ہوا ہے۔ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کشمیری حریت پسند عوام اور رہنما پاکستان کو اپنا وطن اور گھر ہی سمجھتے ہیں ، یقینا اگر کشمیر سید علی گیلانی کی زندگی میں ہی آزادی حاصل کرلیتا تو سید صاحب کشمیر کو پاکستان کے ساتھ شامل کرلیتے۔

بہرحال جہاں تک کشمیری حریت پسندوں کا تعلق ہے ، تو مجھے تو ان کے اس نعرے کی گہرائی سمندر کی گہرائیوں سے زیادہ دکھائی دیتی ہے اور اس امید کو جنم دیتی ہے کہ عنقریب کشمیر بھارت کے چنگل سے آزاد ہو گا اور پاکستان کا پرچم علی الاعلان کشمیر کی وادیوں میں لہراتے ہوئے سید علی گیلانی، اشرف صحرائی، شہید وانی اور دیگر شہداء و مجاہدین کی قربانیوں کو سلام عقیدت پیش کرے گا۔ بطور پاکستان کے شہری اور باسی ہونے کے ناتے ہمیں بھی اس نعرے سے کچھ تو سبق حاصل کرنا چاہیے۔

ہمیں اس نعرے کی گہرائی اور بصیرت کا ادراک کرنا چاہیے، اگرچہ خداوند کریم نے مملکت خداداد پاکستان کو آزادی جیسی نعمت سے نوازا ہے تو کیا ہمارا یہ فرض نہیں ہے کہ ہم ان الفاظ پر غور کریں۔ کیا ہمارے اعمال اور افعال آج واقعی اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ہم نے یہ سوچا ہے یا محسوس کیا ہے کہ ہم پاکستانی ہیں جب کہ سید علی گیلانی اور ان سے قبل حریت پسندوں نے تہتر سالوں میں اس نعرے کے لیے لازوال قربانیاں دے کر اس بات کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہم سب پاکستانی ہیں۔

جب ارد گرد ماحول اور معاشرے پر نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے جدوجہد آزادی کے رہنمائوں اور ان کشمیری حریت پسندوں کے سامنے اپنی نظریں جھکانی پڑتی ہیں کہ جنھوں نے ظلم و جبر اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے مقابلہ میں اعلان جہاد بلند کیا۔ایسا لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے کو آج اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ ہم سب پاکستانی ہیں۔ اس بات کو شدت کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت موجودہ دور میں پہلے سے زیادہ ہے کہ خدانخواستہ پاکستان کو نقصان پہنچا تو ہم بھی باقی نہ رہیں گے۔ آج اس بات کو محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو بنانے کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے جو بے مثال قربانیاں دی تھیں ان قربانیوں کا تسلسل آج بھی جاری ہے اور افواج پاکستان ، سیکیورٹی اداروں سمیت عوام کے مختلف طبقات نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کی حفاظت کی ہے۔اگر چہ پاکستان کے ازلی دشمنوں نے کبھی پاکستان کو فرقہ واریت کے نام پر لہولہان کیا ہے تو کبھی لسانی اختلافات میں الجھا کر لہولہان کیا ہے۔ اسی طرح جب کسی کا کچھ بس نہیں چلا تو اس نے عالمی استعماری ایجنڈے کی تکمیل کے لیے پاکستان کو کمزو کرنے کے لیے نت نئے طریقے ایجاد کر لیے۔

کسی نے کرپشن کرکے پاکستان کو لہولہان کیا تو کسی نے طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے مظلوم اور نادار عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈال کر پاکستان کو لہولہان کیا۔ اسی طرح کسی نے بم دھماکے کیے اور کسی نے قتل و غارت گری کے ذریعے اور کسی نے فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دی تو کسی نے لسانیت کی آگ بھڑکائی، یہ سب کچھ ہمارے معاشرے میں عام ہوچکا ہے۔

ایسے حالات میں مجھے احساس ہوتا ہے کہ کاش ہم پاکستانیوں نے بھی کبھی اس بات کو ادراک کیا ہوتا کہ ہم پاکستانی ہیں، اگر یہ احساس جاگ جاتا تو شاید اپنے وطن سے ہم بہت سی ان برائیوں اور مسائل کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکتے کہ جو صرف اسی سبب پیدا ہو رہی ہیں کہ ہم مجموعی طور پر ہم احساس سے خالی ہو چکے ہیں۔ ہم یہاں فرقوں میں بٹ کر نفرت کا بازار گرم کر رہے ہیں، لسانی اختلاف کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہو گا کہ پاکستان ہمارا ہے تو یقینا اس کی ترقی اور بقاء کے لیے اسے لہو لہان کرنے کے بجائے اپنے لہو سے اس کی آبیاری کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں گے، تاکہ مستقبل میں ہماری نسل نو اس احساس کے ساتھ وطن عزیز کی دن دگنی اور رات چوگنی ترقی میں پیش پیش رہے۔

سید علی گیلانی میں آپ کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں کہ آپ کی وفات کے دن اس نعرے یعنی ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے کی گونج نے ایک نئے احساس کو جنم دیا ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے ہمیں اپنا رویہ اور طرز تفکر بھی بدلنا ہو گا اور اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔