پرویزمشرف سمیت کسی پر بھی حملے کی منصوبہ بندی نہیں کی طالبان رہنما عمر خالد خراسانی
وزارت داخلہ نے اس حوالے سے جو مراسلہ جاری کیا ہے وہ بے بنیاد ہے، کالعدم تحریک طالبان مہمند ایجنسی
وزارت داخلہ تحریک طالبان یا کسی اورتنظیم کا نام استعمال کرنے سے گریز کرے،عمرخالدخراسانی فوٹو:فائل
کالعدم تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے رہنما عمر خالد خراسانی نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم نے پرویز مشرف پر حملے کی منصوبہ بندی نہیں کی اور اس حوالے سے وزارت داخلہ نے جو مراسلہ جاری کیا ہے وہ بے بنیاد ہے۔
ایکسپریس نیوز کےمطابق اپنے ایک بیان میں کالعدم تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے رہنما عمر خالد خراسانی نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کے ساتھ ایک ماہ کے لئے فائربندی کا اعلان کیا گیا اورہم اپنے اس وعدے پر قائم ہیں جب کہ پاکستان میں میں برسرپیکاردیگر تنظیمیں بھی اس میں ہمارا ساتھ دے رہی ہیں۔
سابق صدر پرویز مشرف پر حملے سے متعلق خبر پر خالد عمر خراسانی کا کہنا تھا کہ مشرف سمیت کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی اور اس سلسلے میں وزارت داخلہ کا بیان بے بنیاد ہے لہٰذا اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تحریک طالبان یا کسی اور تنظیم کا نام استعمال کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ اس سے امن عمل کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے پرویز مشرف اور دیگر اہم شخصیات پر حملے سے متعلق ایک مراسلہ جاری کیا تھا جس میں مشرف سمیت دیگر شخصیات کی سیکیورٹی کو سخت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ مراسلے میں کہا گیا تھا کہ دہشت گرد ممکنہ طورپر سابق صدر کو خصوصی عدالت جاتے ہوئے نشانہ بنا سکتے ہیں یا ان پر سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی طرح بھی حملہ کیا جاسکتا ہے۔
ایکسپریس نیوز کےمطابق اپنے ایک بیان میں کالعدم تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے رہنما عمر خالد خراسانی نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کے ساتھ ایک ماہ کے لئے فائربندی کا اعلان کیا گیا اورہم اپنے اس وعدے پر قائم ہیں جب کہ پاکستان میں میں برسرپیکاردیگر تنظیمیں بھی اس میں ہمارا ساتھ دے رہی ہیں۔
سابق صدر پرویز مشرف پر حملے سے متعلق خبر پر خالد عمر خراسانی کا کہنا تھا کہ مشرف سمیت کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی اور اس سلسلے میں وزارت داخلہ کا بیان بے بنیاد ہے لہٰذا اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تحریک طالبان یا کسی اور تنظیم کا نام استعمال کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ اس سے امن عمل کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ وزارت داخلہ نے پرویز مشرف اور دیگر اہم شخصیات پر حملے سے متعلق ایک مراسلہ جاری کیا تھا جس میں مشرف سمیت دیگر شخصیات کی سیکیورٹی کو سخت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ مراسلے میں کہا گیا تھا کہ دہشت گرد ممکنہ طورپر سابق صدر کو خصوصی عدالت جاتے ہوئے نشانہ بنا سکتے ہیں یا ان پر سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی طرح بھی حملہ کیا جاسکتا ہے۔