تحفظ پاکستان آرڈیننس سے پاکستان کی شناخت مجروح ہوگی سراج الحق
ملک میں امن کے لئے مذاکرات کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں، امیر جماعت اسلامی
خیبرپختونخوا میں وزارتوں کے حوالے سے فیصلہ پارٹی کی شوریٰ کرے گی، نومنتخب امیر جماعت اسلامی۔ فوٹو: فائل
QUETTA:
جماعت اسلامی کے نومنتخب امیر اور خیبر پختونخوا کے سینئیر وزیر سراج الحق کا کہنا ہے کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس سے پاکستان کی شناخت مجروح ہوگی وفاقی حکومت فوری طور پر اسے واپس لے۔
پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نو منتخب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس غیر آئینی اور غیر قانونی ہے،اس سے پاکستان کی شناخت مجروح ہوگی۔ ان کی نظر میں یہ قانون قبائلی علاقوں میں رائج ایف سی آر کی دوسری شکل ہے، اور یہ قانون پارلیمنٹ میں لانے کا مقصد ملک کو درپیش اہم مسائل سے توجہ ہٹانا ہے، تحفظ پاکستان بل پرحکومت نظرثانی کرے۔
سراج الحق نے کہنا تھا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہزاروں بے گناہوں کا ناحق خون بہہ چکا ہے، اس لئے یہ مسئلہ راتوں رات حل ہونے والا نہیں، طالبان سے مذاکرات انتہائی پیچیدہ عمل ہے، اس میں پیش رفت کے لئے صبر سے کام لینا ہوگا تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کی کامیابی کے لئے وفاقی حکومت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے حقوق کے لئے کام کرتے رہیں گے اور عوام کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے خلاف آوازاٹھائیں گے۔ وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی کا رویہ غیر جمہوری ہے، ان کی جانب سے مرکز سے فیڈر بند کرنے کی دھمکی غیرذمہ دارانہ ہے، وفاقی حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیئے۔
نو منتخب امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں وزارتوں کے حوالے سے فیصلہ پارٹی کی شوریٰ کرے گی اوروہ بھی مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے کہ کون سا عہدہ چھوڑیں۔
جماعت اسلامی کے نومنتخب امیر اور خیبر پختونخوا کے سینئیر وزیر سراج الحق کا کہنا ہے کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس سے پاکستان کی شناخت مجروح ہوگی وفاقی حکومت فوری طور پر اسے واپس لے۔
پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نو منتخب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس غیر آئینی اور غیر قانونی ہے،اس سے پاکستان کی شناخت مجروح ہوگی۔ ان کی نظر میں یہ قانون قبائلی علاقوں میں رائج ایف سی آر کی دوسری شکل ہے، اور یہ قانون پارلیمنٹ میں لانے کا مقصد ملک کو درپیش اہم مسائل سے توجہ ہٹانا ہے، تحفظ پاکستان بل پرحکومت نظرثانی کرے۔
سراج الحق نے کہنا تھا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہزاروں بے گناہوں کا ناحق خون بہہ چکا ہے، اس لئے یہ مسئلہ راتوں رات حل ہونے والا نہیں، طالبان سے مذاکرات انتہائی پیچیدہ عمل ہے، اس میں پیش رفت کے لئے صبر سے کام لینا ہوگا تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کی کامیابی کے لئے وفاقی حکومت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے حقوق کے لئے کام کرتے رہیں گے اور عوام کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے خلاف آوازاٹھائیں گے۔ وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی کا رویہ غیر جمہوری ہے، ان کی جانب سے مرکز سے فیڈر بند کرنے کی دھمکی غیرذمہ دارانہ ہے، وفاقی حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیئے۔
نو منتخب امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں وزارتوں کے حوالے سے فیصلہ پارٹی کی شوریٰ کرے گی اوروہ بھی مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے کہ کون سا عہدہ چھوڑیں۔