بھارت نے نیٹو چیف کی روسی تیل پر پابندیوں کی دھمکی مسترد کر دی
نئی دہلی: بھارت نے نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کی جانب سے روسی تیل اور گیس کے خریدار ممالک پر "100 فیصد ثانوی پابندیوں" کی دھمکی کو مسترد کر دیا ہے اور مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر "دوہرا معیار" اختیار نہ کریں۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت کی اولین ترجیح اپنے عوام کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے، جو کہ عالمی مارکیٹ میں دستیاب وسائل اور موجودہ حالات کی روشنی میں کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ اگرچہ یورپی یونین نے روسی تیل پر انحصار میں نمایاں کمی کی ہے، لیکن کچھ یورپی ممالک اب بھی روسی تیل براہ راست یا کسی تیسرے ملک کے ذریعے خرید رہے ہیں۔
"فارن پالیسی" کے مطابق 2024 میں سلوواکیہ، ہنگری، آسٹریا اور اسپین روسی تیل کی ادائیگی کرنے والے سرفہرست یورپی ممالک میں شامل تھے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت میں روسی خام تیل کو پراسیس کرکے پیٹرول اور ڈیزل جیسی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں جو بعد میں یورپ کو برآمد کی جاتی ہیں۔
واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے مارک روٹے نے کہا کہ روس سے کاروبار کرنے والے ممالک روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو فون کر کے بتائیں کہ وہ یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے امن مذاکرات کو سنجیدگی سے لیں، ورنہ اس کا منفی اثر برازیل، بھارت اور چین پر بڑے پیمانے پر پڑے گا۔