امن مذاکرات ناکام

ان امن مذاکرات کی ناکامی کا پاکستان کو فائدہ ہوا یا نقصان۔ دیکھیں امن مذاکرات کو لمبا کرنے اور سیز فائر کو چلانے کا افغان طالبان کو فائدہ تھا

msuherwardy@gmail.com

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترکی میں ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کسی بھی قسم کے امن معاہدہ پر اتفاق نہیں کر سکے ہیں۔ اطلاعات یہی ہیں کہ سیز فائر کو بھی آگے نہیں بڑھایا جا سکا ہے۔ اس لیے اب جب سیز فائر کی مدت کو آگے نہیں بڑھایا گیا تو یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی سیز فائر موجود ہے۔ عملی طور پر جو صورتحال سامنے آرہی ہے اس کے مطابق جب کوئی امن معاہدہ نہیں ہے تو کوئی سیز فائر بھی نہیں ہے۔

دونوں ممالک کا میڈیا اپنے اپنے ملک کا موقف پیش کر رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا پاکستان کو موقف پیش کر رہا ہے جب کہ افغانستان کا میڈیا افغانستان کا موقف پیش کر رہا ہے۔ افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت ہے، وہاں میڈیا پر پاکستان سے زیادہ سختیاں ہیں۔ وہاں میڈیا پر افغان طالبان کا پاکستان سے زیادہ کنٹرول ہے۔

اس لیے پاکستان کے میڈیا میں تو آپ کو دونوں طرف کی خبر مل جاتی ہے۔ لیکن افغان میڈیا میں صرف افغان طالبان کا موقف ہی نظر آتا ہے۔ اس لیے افغان میڈیا کو دیکھ کر طالبان کی سوچ اور ان کی پالیسی کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

افغان طالبان اپنے ملک میں جنگ کا ماحول بنا رہے ہیں، وہاں پاکستان سے طبل جنگ بجایا جا رہا ہے۔ وہاں امن کی بات کم اور جنگ کی بات زیادہ کی جا رہی ہے۔ وہاں یہ بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ اب کابل پر حملہ ہوا تو اسلام آباد پر جواب دیا جائے گا۔ کیسے وہاں پوچھنے کی کوئی جرات نہیں کر سکتا۔ افغانستان اور افغان طالبان کی جنگی صلاحیت کے بارے میں وہاں کوئی سوال نہیں ہو سکتا۔ لیکن وہاں جنگ کا ماحول بنایا جا رہاہے۔ امن مذاکرات کے دوران ہی جنگ کا ماحول بنایا جا رہا تھا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن مذاکرات کے بارے میں پاکستان کے ہی نہیں بلکہ بین الا قوامی دفاعی ماہرین کی یہی رائے تھی کہ یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے۔ ایک عمومی رائے یہی تھی کہ افغان طالبان پاکستان کی بات نہیں مانیں گے۔ وہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی ختم نہیں کریں گے۔ اس لیے پاکستان کو مذاکرات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ صرف اتمام حجت ہے تاکہ کل کو یہ نہ کہا جا سکے کہ اگر امن کو موقع دیا جاتا تو جنگ سے بچا جا سکتا تھا۔ امن کو ایک موقع دیا جانا چاہیے تھا۔

جنگ سے پہلے مذاکرات ہونے چاہیے تھے شاید بات بن جاتی۔ اس لیے پاکستان عالمی رائے عامہ کو یہ باور کروانے کے لیے کہ وہ امن کے لیے سنجیدہ ہے یہ مذاکرات کر رہا تھا۔ عالمی ثالثوں کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ اگر بات بن جائے تو جنگ کوئی آپشن نہیں۔ اسی لیے ترکی اور قطر کی ثالثی بھی قبول کی گئی تا کہ عالمی سطح پر پاکستان کا موقف پیش کیا جا سکے۔

اب کیا ہوا ہے۔ میری رائے میں امن کو دیا گیا موقع ناکام ہوگیا ہے۔ ہم اس کی ناکامی کی وجوہات پر تفصیل سے بات کر سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ امن ناکام ہو گیا ہے، جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اب سوال یہی ہے کہ کیا پاک افغان جنگ ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں اس کو جنگ کہنا تو مناسب نہیں لیکن پاکستان افغانستان کے اندر دہشت گرد تنظیموں کے اڈوں اور ٹھکانوں کو ضرور نشانہ بنائے گا۔

پاکستان سرجیکل اسٹرائیکس کرے گا، پاکستان افغانستان میں ڈرون مارے گا، جاسوسی ڈرون بھیجے گا۔ پاکستان وہ کام کرے گا جس سے افغانستان میں ٹی ٹی پی سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک کو توڑا جا سکے۔ آپ اس کو جنگ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن جنگ تو تب ہو جب ہم افغان طالبان کو نشانہ بنائیں، وہاں کے حکمرانوں کو نشانہ بنائیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان طالبان اس کو جنگ ہی قرار دیں گے اور وہ اس کو جنگ ہی سمجھیں گے۔

ان امن مذاکرات کی ناکامی کا پاکستان کو فائدہ ہوا یا نقصان۔ دیکھیں امن مذاکرات کو لمبا کرنے اور سیز فائر کو چلانے کا افغان طالبان کو فائدہ تھا۔ انھوں نے قطر میں بھی یہی کیا تھا۔

ایک مبہم سی بات کی تھی اور سیز فائر کروا لیا تھا۔ اب بھی افغان طالبان کی کامیابی یہی تھی کہ مذاکرات کی اگلی کوئی تاریخ طے ہوجاتی اور سیز فائر چلتا رہتا۔امن معاہدہ بھی نہ ہوتا اور سیز فائر بھی چلتا رہتا۔ اس کے ملک سے دہشت گرد تنظیمیں بھی کام کرتی رہتیں لیکن سیز فائر بھی قائم رہتا۔ سیز فائر کا افغانستان کو فائدہ تھا۔ وہ سیز فائر میں توسیع چاہتے تھے۔ جب کہ بغیر کسی ٹھوس معاہدہ کے سیز فائر میں توسیع پاکستان کے مفاد میں نہیں تھی۔

اب صورتحال یہ ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں اور ان کے کمانڈرز کو ایک خوف ہے کہ انھیں کسی بھی وقت پاکستان کا کوئی میزائیل، کوئی ڈرون اور کوئی فضائی حملہ نشانہ بنا سکتا ہے۔

یہ درست ہے کہ کابل میں جب ٹی ٹی پی کے کمانڈر نور ولی محسود کو نشانہ بنایا گیا تو وہ قسمت سے بچ گئے۔ لیکن یہ تو ڈر ہے کہ دوبارہ نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ وہ پہلے افغانستان میں کھلے عام بے خوف پھرتے تھے۔ لیکن اب ہر وقت نشانہ بننے کا خوف رہے گا۔ کب پاکستان حملہ کر دے، یہ ایک ایسا خوف ہے جو اب افغانستان میں موجود ہر دہشت گرد کے ذہن میں ہے۔ پہلے وہ اپنے کیمپوں میں بے خوف رہتے تھے لیکن پکتیا کی اسٹرائیک نے بتا دیا ہے کہ کیمپ محفو ظ نہیں۔ پہلے افغانستان میں ان کی نقل وحرکت آزادانہ تھی۔ اب آزادانہ نہیں ہوگی۔ اب خوف ہے کہ کبھی بھی کہیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایک سوال پاکستان اب کب اسٹرائیکس شروع کرے گا۔ میری رائے میں اسٹرائیکس سے زیادہ اس کا خوف برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اسٹرائیکس بھی کرنی چاہیے۔ خوف ختم نہیں کرنا۔ بالخصوص سرحد کے ساتھ تو صفایا کرنا ہوگا تا کہ وہ خود کو سرحد کی دوسری طرف محفوظ نہ سمجھیں۔ رات کو بھی آسمان کی طرف دیکھیں کہیں کوئی حملہ تو نہیں ہوگیا۔

ایک سوال کہ افغان میڈیا نے یہ تو بہت کہا ہے کہ اب اسلام آباد پر حملہ کیا جائے گا۔ افغانستان کیسے حملہ کرے گا۔ صاف بات ہے کہ افغانستان کے پاس جوابی حملہ کرنے کے لیے کوئی ہتھیار نہیں۔ وہ پاکستان کے جہازوں کو گرانا دور کی بات دیکھ بھی نہیں سکتا۔ کوئی رڈار نہیں، اس کے پاس کوئی میزائیل نہیں۔ وہ صرف اور صرف دہشت گردی سے جواب دے سکتا ہے۔ وہ اسلام آباد میں خود کش حملوں کی دھمکی دے رہا ہے۔ اس کی سب کو سمجھ ہے۔ ہمیں پاکستان میں بھی ان کا نیٹ ورک توڑنا ہے اور افغانستان میں بھی ان کا نیٹ ورک توڑنا ہے۔

یہ درست ہے کہ افغان طالبان حکومت کو بھارت کی سرپرستی ہے۔ لیکن وہ حامد کرزئی کی حکومت کو بھی تھی، اشرف غنی کی حکومت کو بھی تھی۔ بھارت نے افغانستان کی ہر حکومت کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا ہے، آج بھی کر رہا ہے۔ ہمیں اس سے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

جہاں جنگ کا خوف ہے، وہاں تجارت بند رکھنی ہوگی، راہداریاں بند رکھنی ہوں گی، ٹرانزٹ ٹریڈ بند رکھنی ہوگی، سرحد بند رکھنی ہوگی، افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا ہوگا، یہ سب کام جاری رکھنے ہوں گے۔ ان کے بھی بہت اثرات ہیں۔یہ بھی کسی سرجیکل اسٹرائیکس سے کم نہیں۔ ان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

Load Next Story