ترکیہ؛ سالِ نو پر غزہ سے اظہارِ یکجہتی کیلیے لاکھوں شہری سڑکوں پر نکل آئے
ترکیہ میں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لاکھوں شہری سڑکوں پر نکل آئے
نئے سال کے پہلے دن ترکیہ کے شہر استنبول میں غزہ کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے مطالبے کے لیے ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
مسجدوں کے صحنوں میں لوگوں نے ترک اور فلسطینی پرچم لہرائے اور غزہ میں جاری جنگ کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
یہ مارچ صبح سویرے نمازِ فجر کے بعد کیا گیا جس میں مرد، خواتین، نوجوان، سرکاری عہدیدار اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندے شریک تھے۔
الجزیرہ کی ترکیہ سے نمائندہ سینم کوسی اوغلو کے مطابق لوگ نئے سال کے پہلے ہی دن فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔
اس احتجاج میں فٹبال کلبز نے بھی اپنے مداحوں سے شرکت کی اپیل کی تھی جب کہ فلسطین کا مسئلہ ترکیہ میں حکمران جماعت اے کے پارٹی سے لے کر بڑی اپوزیشن جماعتوں تک تمام سیاسی حلقوں میں حمایت رکھتا ہے۔
شدید سرد موسم کے باوجود عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے خاص طور پر سلطان احمد اسکوائر کے اطراف جہاں شرکا کو گرم مشروبات بھی فراہم کیے گئے۔
نماز کے بعد مظاہرین نے گالاتا برج کی جانب مارچ کیا اس موقع پر وزرا، اعلیٰ سرکاری افسران اور ریاستی شخصیات بھی موجود تھیں۔ مرکزی پروگرام صبح 8:30 بجے مقامی وقت شروع ہوا۔
یہ احتجاج “ہم خاموش نہیں رہتے، ہم فلسطین کو نہیں بھولتے” کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کا اہتمام ہیومینیٹیرین الائنس اور نیشنل ول پلیٹ فارم نے کیا۔ اس میں 400 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں نے شرکت کی۔
گالاتا برج پر فلسطینیوں کے لیے دعائیں کی گئیں اور روٹس کے نام سے ایک آرٹ انسٹالیشن بھی پیش کی گئی جس کا مقصد منتظمین کے بقول غزہ میں ثقافت اور فنونِ لطیفہ کو نشانہ بنائے جانے کی طرف توجہ دلانا تھا۔
اس کے علاوہ عالمی شہرت یافتہ فنکاروں اور موسیقاروں نے بھی پرفارمنس پیش کی۔
احتجاج کے دوران فلسطینی جدوجہد کی علامت، معروف کردار حنظلہ کا ایک بڑا بینر بھی آویزاں کیا گیا، جو اس مظاہرے کی نمایاں علامت بن کر سامنے آیا۔
یہ مارچ نہ صرف ترکیہ بلکہ دنیا بھر میں فلسطین کے حق میں جاری عوامی حمایت کا ایک مضبوط اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔