ملک میں شرحِ خواندگی 60 سے بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی

اسکول سے باہر بچوں کی شرح 30 سے کم ہو کر 28 فیصد پر آگئی، گھریلو سطح پر انٹرنیٹ رسائی 34 سے بڑھ کر 70 فیصد ہوگئی


اسٹاف رپورٹر January 01, 2026
تعلیمی ادارے بچوں کی اخلاقیات پر خصوصی طور پر توجہ دیں۔ (فوٹو: فائل)

اسلام آباد:

پاکستان میں قومی سطح پر شرحِ خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی جبکہ اسکول سے باہر بچوں کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے جو 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان ادارہ شماریات نے ہاوٴس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس) 2024-25ء کی کامیاب تکمیل کے بعد اس کے نتائج جاری کردیے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے ہاوٴس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس ) 202425 کا باضابطہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب آج وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات میں منعقد ہوئی۔

میزبانی چیف شماریات ڈاکٹر نعیم اظفر ( ستارہ امتیاز)، محمد سرور گوندل (ستارہ امتیاز)، ممبر( ایس ایس /آر ایم ) اور رابعہ اعوان ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (PSLM/PCS) نے کی۔ تقریب میں اہم شراکت داروں تکنیکی کمیٹی کے اراکین اور وزارتِ منصوبہ بندی اور پاکستان ادارہ شماریات کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

سروے میں بتایا گیا کہ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گئی ہے، انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہوگیا ہے۔

سروے کے مطابق مکمل حفاظتی ٹیکہ جات (ریکارڈ کی بنیاد پر) کی کوریج 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے اور صاف ایندھن کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے جو 35 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

احسن اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزارتِ منصوبہ بندی اور پاکستان ادارہ شماریات کو کامیابی کے ساتھ جدید، ڈیٹا پر مبنی اداروں میں تبدیل کردیا گیا ہے، جو ایک نہایت حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہاوٴس ہولڈ انٹیگریٹڈ سروے اب محققین کو زیادہ بامعنی تجزیہ کرنے کے مواقع فراہم کرے گا جبکہ کاروباری برادری کو بہتر فیصلوں اور پیداوار میں بہتری کے لیے قیمتی معلومات مہیا کرے گا۔

ماضی کے معاشی چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو پہلا بڑا دھچکا 2018ء میں لگا جس کے نتیجے میں گزشتہ برسوں کی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی۔ سروے کے نتائج واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ اس مرحلے پر معاشی ترقی رک گئی اور معیشت زوال کی سمت گامزن ہو گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2022ء میں ناقص منصوبہ بندی کے باعث معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، کووڈ۔19 وبا کے بعد دنیا ایک عالمی بحران میں داخل ہوئی جس کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوئے، خصوصاً متوسط طبقہ شدید متاثر ہوا، جیسا کہ اقتصادی سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بحران کا دور اب ختم ہو چکا ہے اور پاکستان مضبوطی سے معاشی بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

واضح رہے کہ یہ سروے ملک کے سماجی و معاشی حالات کا جامع جائزہ فراہم کرتا ہے اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے لیے اہم کردادار اد اکرتا ہے۔ ہاوٴس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس) 1963سے قومی اور صوبائی سطح پر سماجی و معاشی اعشاریوں کی نگرانی کر رہا ہے۔

قبل ازیں یہ سروے 2018ء-19ء میں کیا گیا تھا جس میں آمدنی اور کھپت کے رجحانات سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے۔ ایچ آئی ای ایس پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول میں پیش رفت کی نگرانی میں بھی معاون ہے، جہاں پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے رپورٹ کیے جانے والے 62 میں سے 31 اعشاریوں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

خانہ ومردم شماری 2023 کے بعد پاکستان میں پہلی مرتبہ ہاوٴس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) 202425، مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے منعقد کیا گیا ہے۔

اس سروے کی فیلڈ سرگرمیاں جون 2025 میں سہ ماہی بنیادوں پر مکمل کی گئیں، جس کے دوران ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر 32 ہزار گھرانوں کا احاطہ کیا گیا،۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے اور حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے ایک مکمل طور پر مربوط انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ای آر پی) نظام استعمال کیا گیا۔

مقبول خبریں