ظہران ممدانی نے وینزویلا پر امریکی حملے کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیا
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے وینزویلا پر مبینہ امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو و ان کی اہلیہ کی گرفتاری کے اعلان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں میئر ظہران ممدانی نے کہا کہ انہیں امریکی آپریشن اور صدر مادورو و ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو نیویارک سٹی میں وفاقی تحویل میں رکھنے کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی ہے۔
I was briefed this morning on the U.S. military capture of Venezuelan President Nicolás Maduro and his wife, as well as their planned imprisonment in federal custody here in New York City.
Unilaterally attacking a sovereign nation is an act of war and a violation of federal and…— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) January 3, 2026
ان کا کہنا تھا کہ کسی خودمختار ملک پر یکطرفہ حملہ کرنا جنگ کے مترادف ہے اور یہ وفاقی اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں امریکی خارجہ پالیسی میں خطرناک حد تک کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔
ظہران ممدانی نے زور دیا کہ اس کارروائی کے اثرات صرف وینزویلا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے براہِ راست نتائج نیویارک میں مقیم دسیوں ہزار وینزویلا باشندوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
میئر نے کہا کہ میری توجہ ان کی اور ہر نیویارک کے شہری کی سلامتی پر مرکوز ہے اور ساتھ ہی واضح کیا کہ ان کی انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر شہریوں کو بروقت رہنمائی فراہم کی جاتی رہے گی۔