پنجاب رواں سال گندم کی بہترین پیداوار کیلیے تیار، کسان کارڈ سے زرعی شعبے میں انقلاب برپا
پنجاب کی زرخیز سرزمین رواں سال گندم کی بہترین پیداوار کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے متعارف کردہ کسان کارڈ نے صوبے کی زراعت کی سمت یکسر بدل دی ہے اور کھیتوں میں اعتماد کی نئی فصل بو دی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کسان کارڈ کے تحت اب تک پنجاب کے کسانوں کو 100 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 65 ارب روپے عملی طور پر استعمال بھی ہو چکے ہیں۔ کسانوں نے ان قرضوں میں سے 47 ارب روپے صرف کھاد کی خریداری پر خرچ کیے، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں نمایاں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
دسمبر کے مہینے میں یوریا کھاد کی فروخت نے پنجاب کی زرعی تاریخ میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا، جب 13 لاکھ 56 ہزار میٹرک ٹن یوریا کھاد فروخت ہوئی۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں پنجاب کے کسانوں نے 37 فیصد زیادہ یوریا کھاد خریدی، جو کسانوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور زرعی سرگرمیوں میں اضافے کا واضح ثبوت ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ کسان کارڈ نے نہ صرف پنجاب کی زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے بلکہ کسانوں کو سرمایہ، ٹیکنالوجی اور بااختیار مالی وسائل بھی فراہم کیے ہیں۔ ان کے مطابق اب پنجاب کے کسان کے ہاتھ میں سرمایہ بھی ہے، ٹیکنالوجی بھی، اور کسان کارڈ کے ذریعے استعمال کے لیے پیسہ بھی دستیاب ہے۔
مریم نواز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ کسان کی ترقی پاکستان کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، اور صوبائی حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود اور زرعی شعبے کی بہتری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے گی۔