بھارت خطے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، دفتر خارجہ
فوٹو: فائل
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جے ایف 17 کے معاہدے پر درعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان وسیع دفاعی تعلقات ہے، جے ایف 17 طیاروں کے معاہدے سے متعلق کوئی علم نہیں ہے، اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو وقت آنے پر بتائیں گے۔
دفتر خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کے لیے پانچ جنوری کو حق خودارادیت کا دن منایا گیا، ہندوستان کشمیری لیڈر شپ کو خاموش کرنے میں لگا ہے، ہزاروں کمشیری لیڈران ہندوستانی جیلوں میں قید ہے، پانچ اگست 2019 کو بھارت نے کالے اقدامات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے لیے سیاسی سماجی تعاون جاری رکھے گا، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کا دورہ کیا، اسحاق ڈار پاک چین وزرائے خارجہ کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں شرکت کی۔
ترجمان کے مطابق پاک چین وزرائے خارجہ کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جے ایف 17 کے معاہدے پر دفتر خارجہ نے درعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان وسیع دفاعی تعلقات ہے، جے ایف 17 طیاروں کے معاہدے سے متعلق کوئی علم نہیں ہے، اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو وقت آنے پر بتائیں گے۔
پاکستان بھارتی وزیر خارجہ امور کے بے بنیاد بیان کو مسترد کرتا ہے، یہ بھارت کا ریکارڈ ہے کہ وہ۔ خطے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، بھارت کے پاکستان پر الزامات اس کے امن دشمن اقدامات کو نہیں چھپا سکتے، بھارت کو دوسروں کو وعظ کرنے کی بجائے اپنے اپ کو بدلنا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی میں فیض الہی مسجد اور ملحقہ جائیدادوں کا انہدام بھارت کے مسلم کش اقدامات کی مہم کا حصہ ہے، یہ 1992میں بابری مسجد کے انہدام اور بعد ازاں مندر کی تعمیر کا تسلسل ہے، یہ اقلیتوں کے خلاف بھارتی نفرت انگیز ہندوتوا مہم کا حصہ ہے، پاکستان اور سعودی عرب کا دفاع سمیت متعدد شعبوں میں تعاون موجود ہے۔
پاکستان ایران کے معاملات میں کسی بھی غیرملکی مداخلت کا مخالف ہے، صومالی لینڈ کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے، ہم نے مختلف فورمز پر صومالی لینڈ کی غیر قانونی ریاست کی مخالفت کی ہے، یہ برادر ملک صومالیہ کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔
گذشتہ روز پاکستانی سابق سیکرٹریز خارجہ اور سفیروں سے اسحاق ڈار کی ملاقات معمول کا حصہ ہے، پاکستان افغانستان کے ساتھ مخاصمانہ رویہ نہیں چاہتا، ہمارا مطالبہ انتہائی سادہ ہے کہ افغان شہری دیگر ممالک میں دہشتگردی میں استعمال نہ ہوں، ہم صرف قابل تصدیق، تحریری اور ٹھوس ضمانتیں اور ان پر عملدرآمد چاہتے ہیں، یہ ضمانتیں افغانستان کے اپنے لئے اچھی ہیں۔
پاکستان ، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کا لیٹرل میکنزم پر دفتر خارجہ نے موقف دیا کہ
پاکستان افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے درمیان سہ فریقی میکنزم جارہے رہے گا،
سہ فریقی میکنزم پر کے جاری رہنے پر پاک چین وزرائے خارجہ کے اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں اتفاق ہوا تھا ۔
وزرائے خارجہ کے سہ فریقی میکنزم جاری رکھنا پاکستان کی مثبت عکاسی کررہا ہے،
پاک افغان دوطرفہ تعلقات پر پاکستان کا موقف پرانا ہے، افغان طالبان کو دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔