پی ٹی آئی نے دہشتگردوں کو لاکر بسایا، ہم ٹی ٹی پی کا تعاقب کرکے خاتمہ کریں گے، وزیر اطلاعات

آج قوم دہشت گردی کا جو خمیازہ بھگت رہی ہے اس کے پیچھے تحریک انتشار کا سیاسی ونگ ہے، عطاء تارڑ

اسلام آباد:

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عظاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کو لا کر بسایا لیکن ٹی ٹی پی پاکستان کی دشمن ہے اور آخری دم تک تعاقب کر کے اس کا خاتمہ کریں گے۔

اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لیڈر دہشت گردوں کو شہید کہتا تھا لیکن پاک فوج کے کسی جوان کے لیے کبھی انہوں نے ایک لفظ تک نہیں لکھا، ان کا اپنا ایجنڈا ہے۔

عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف بات کرنے پر پی ٹی آئی والوں کی زبانیں لڑکھڑا جاتی ہیں، پاکستان تحریک انصاف تحریک طالبان کے خلاف بات کیوں نہیں کرتی؟ آج قوم دہشت گردی کا جو خمیازہ بھگت رہی ہے اس کے پیچھے تحریک انتشار کا سیاسی ونگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں، اے این پی نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھائی ہیں لیکن دوسری طرف پی ٹی آئی دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے، ضرب عضب کے بعد خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوا تھا۔

معاشی کامیابیاں

عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ ملک ڈیفالٹ ہوتا تو اس وقت صورتحال انتہائی دگرگوں ہوتی لیکن ہماری حکومت ڈیفالٹ کے دہانے سے ابھرتی معیشت بنا ہے۔ حکومت کی پالیسیوں پر بزنس کمیونٹی اور تاجروں کا اعتبار ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسٹاک ایکسچینج بہترین پرفارم کر رہی ہے، وزیراعظم جہاں جاتے ہیں پاکستان کی مصنوعات کی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ملک کی اسٹاک مارکیٹ نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ مضبوط معیشت اور ریکارڈز اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے، معاشی بہتری کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں اور صرف دسمبر کے مہینے میں 3.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر ریکارڈ کی گئیں۔

عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم جس ملک کا دورہ کرتے ہیں تجارتی میدان میں نئی کامیابیاں ملتی ہیں، ملائیشیا نے حلال گوشت اور چاول پاکستان سے درآمد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، بین الاقوامی پروازیں شروع ہوگئی ہیں، دنیا کے ممالک پاکستان کے تجارت اور دفاعی شعبے میں تعاون کے خواہش مند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ پالیسی فریم ورک اور ملائیشیاء کے ساتھ تجارتی پیشرفت اہم کامیابیاں ہیں، آج پاکستان کے گرین پاپسورٹ کو ہر جگہ عزت مل ری ہے۔

سفارتی کامیابیاں

وفاقی وزیر نے کہا کہ سفارتی سطح پر پاکستان کو تنہاء کیا گیا تھا، پی ٹی آئی کی حکومت نے پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کیا لیکن پاکستان اب سفارتی کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ اوورسیز پاکستانیز پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں لیکن پی ٹی آئی قیادت لوگوں کو ملک میں ترسیلات زر بھجوانے سے روکتی رہی۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کی ٹیمیں خریدنے والے دونوں بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنا سرمایہ پاکستان میں لگانا چاہتے ہیں۔ پاکستانیوں کو اب بیرون ملک عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہے۔ تحریک انصاف بتائے کہ خارجہ پالیسی میں انہوں نے کیا کیا؟

سال 2025 کی کامیابیاں

عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ سال 2025 ہر حوالے سے کامیابیوں کا سال تھا۔ پاکستان نے معرکہ حق میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے فتح کے جھنڈے گاڑے۔ اپنے سے بڑے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملایا، بھارتی جنگی طیارے گرانے پر دنیا پاکستان کی معترف ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2025 جہاں عسکری کامیابیوں کا سال تھا وہاں معاشی میدان میں بھی کامیابیاں ملیں اور ایک ایسے وقت میں جب ملک دیوالیہ ہونے کے دھانے پر تھا ہم نے معیشت کو سنبھالا، دیوالیہ ہونے کی صورت میں نقصانات کا اندازہ لگانا محال تھا۔

خواتین کی تضحیک

خواتین کی تضحیک کرنے پر وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایسی حکومت مسلط ہے جن کے ذہن بہت چھوٹے ہیں۔ لاہور کے دورے کے موقع پر خواتین کی توہین کی گئی، عظمیٰ بخاری کے حوالے سے کہے گئے کلمات کسی مرد کو زیب نہیں دیتے۔ تم میں طاقت ہے تو حوصلے سے بات کرو۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو نشانہ بنانے والے بزدل لوگ ہیں اور بزدل انسان ہی عورت پر حملہ کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کا کردار شرمناک ہے، عورتوں پر طعنے کستے ہیں۔ خواتین پر طعنے کسنے والوں کے کردار کے بارے میں قوم جان گئی ہے۔

خیبر پختونخوا میں بیڈ گورنس

عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ ایک شخص نے دعویٰ کر دیا کہ لیڈی ریڈنگ اسپتال بھی ہم نے بنایا لیکن خیبر پختونخوا میں 12 سال سے برسر اقتدار حکومت کی گورننس زبوں حالی کا شکار ہے۔ صوبے میں صحت کا شعبہ بھی زبوں حالی کا شکار ہے جبکہ تعلیم کے شعبے پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پنجاب کی ترقی سب کے سامنے ہے جبکہ سندھ اور بلوچستان میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ خیبر پختونخوا کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں ترقی ہو رہی ہے۔

متعلقہ

Load Next Story