سرحدی تنازع پھر گرم، بیجنگ نے شکسگام ویلی پر بھارتی دعویٰ مسترد کر دیا
بیجنگ: چین نے کشمیر میں واقع شکسگام ویلی پر بھارت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ علاقہ چین کا حصہ ہے اور بیجنگ کو وہاں ترقیاتی منصوبے بنانے کا پورا حق حاصل ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماو نِنگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ شکسگام ویلی چین کی سرزمین ہے، اس لیے وہاں انفراسٹرکچر کی تعمیر بالکل جائز ہے۔ ان کا یہ بیان بھارتی میڈیا کی جانب سے چین کے ترقیاتی منصوبوں پر تنقید کے جواب میں سامنے آیا۔
اس سے قبل بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ شکسگام ویلی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ بھارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت 1963 میں چین اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سرحدی معاہدے کو غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔
بھارت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہیں، اور اس حوالے سے چین اور پاکستان کو کئی بار آگاہ کیا جا چکا ہے۔
چینی ترجمان نے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں بطور خودمختار ممالک سرحدی معاہدہ کیا تھا، جو دونوں ممالک کا حق ہے۔ ان کے مطابق سی پیک ایک اقتصادی منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی ترقی اور عوام کی فلاح ہے، اور اس سے چین کے کشمیر سے متعلق مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
واضح رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات ایک عرصے سے جاری ہیں، اگرچہ 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس کے باوجود شکسگام ویلی اور اروناچل پردیش جیسے علاقوں پر اختلافات برقرار ہیں۔