طالبان حکومت نے پہلی مرتبہ بھارت میں اپنا اعلیٰ سفارتی نمائندہ مقرر کر دیا
افغانستان میں طالبان حکومت نے پہلی مرتبہ بھارت میں اپنا اعلیٰ سفارتی نمائندہ مقرر کر دیا ہے۔
طالبان کی جانب سے نور احمد نور کو نئی دہلی میں افغان سفارت خانے کا ناظم الامور (Charge d’Affaires) مقرر کیا گیا ہے، جو 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں تعینات ہونے والے پہلے سینئر طالبان عہدیدار ہیں۔
اگرچہ بھارت نے اب تک طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا، تاہم اس تقرری کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ بھارت اس پیش رفت کو اسلام آباد اور کابل کے درمیان موجود اختلافات کے تناظر میں ایک سفارتی موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
افغان سفارت خانے کے مطابق نور احمد نور نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد بھارتی حکام سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں فریقین نے افغانستان اور بھارت کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
افغان سفارت خانے نے نور احمد نور کی بھارتی وزارتِ خارجہ کے سینئر عہدیدار آنند پرکاش کے ساتھ ایک تصویر بھی جاری کی، تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
The Chargé d’Affaires of the Embassy of the Islamic Emirate of Afghanistan in New Delhi, H.E. Mufti Noor Ahmad Noor, met with Mr. Anand Prakash, Joint Secretary of the Pakistan, Afghanistan, Iran (PAI) Division at the Ministry of External Affairs of India.
1/3 pic.twitter.com/DpLTaFxUUeطالبان کی اسلامی قانون کی سخت تشریح بظاہر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت سے متضاد نظر آتی ہے، اس کے باوجود بھارت نے اس سفارتی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہ تقرری طالبان کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ وہ عالمی سطح پر اپنی حکومت کو تسلیم کرانے اور بیرونِ ملک افغان سفارتی مشنز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ اکتوبر میں بھارت نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان میں اپنے تکنیکی مشن کو مکمل سفارت خانے میں تبدیل کرے گا، جبکہ اب تک روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔