اسرائیلی پولیس نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ایک سابق قریبی معاون کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق اسرائیل آئینہورن، جو نیتن یاہو کے سابق انتخابی مشیر رہ چکے ہیں، وہ وزیراعظم کے دفتر سے جڑے دو بڑے معاملات میں ملوث ہونے کے شبے میں مطلوب ہیں۔
اسرائیلی پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز میں آئینہورن کا نام ان افراد کی فہرست میں شامل ہے جن پر وزیراعظم کے دفتر سے رابطے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ دستاویز میں واضح طور پر درج ہے کہ ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ زیر التوا ہے۔ پولیس کے ترجمان نے وارنٹ کی تصدیق بھی کر دی ہے۔
اسرائیل آئینہورن اس وقت سربیا میں مقیم ہیں اور تحقیقات شروع ہونے کے بعد سے وہ اسرائیل واپس نہیں آئے، تاہم گزشتہ برس اسرائیلی تفتیش کاروں نے سربیا میں ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔
آئینہورن کا نام اس مشہور "بلڈ افیئر" میں بھی سامنے آیا ہے، جس میں ستمبر 2024 میں اسرائیلی فوج کی خفیہ معلومات جرمن اخبار بلڈ کو لیک کی گئی تھیں۔ اس کیس میں نیتن یاہو کے دو دیگر معاونین کو گرفتار کر کے فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔
لیک ہونے والی دستاویز میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ حماس جنگ بندی میں دلچسپی نہیں رکھتی، اور یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد کو صرف فوجی دباؤ کے ذریعے رہا کرایا جا سکتا ہے، مذاکرات کے ذریعے نہیں۔
اس کے علاوہ اسرائیل آئینہورن "قطر گیٹ" اسکینڈل میں بھی مشتبہ قرار دیے گئے ہیں، جس میں نیتن یاہو کے قریبی افراد پر الزام ہے کہ انہیں قطر کی جانب سے اسرائیل میں خلیجی ریاست کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔