تشدد پر اکسانے والے 67 بھارتی گانے میوزک پلیٹ فارمز سے ہٹادیے گئے

گانوں میں گینگ کلچر، اسلحے اور تشدد کو نمایاں کیا جارہا تھا

بھارت میں تشدد، ہتھیاروں اور گینگز کو فروغ دینے والے گانوں کے خلاف حکام نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 67 گانے مختلف میوزک پلیٹ فارمز سے ہٹادیے ہیں۔

یہ اقدام اس تشویش کے بعد سامنے آیا ہے کہ ایسے گانے نوجوانوں میں جرائم اور پرتشدد رویوں کو معمول بنا رہے ہیں۔

انڈین ٹریبیون کے مطابق ہریانہ کی اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) اور سائبر یونٹ کی مشترکہ تحقیق میں انکشاف ہوا کہ بعض گانوں میں گینگ کلچر، اسلحے اور تشدد کو نہ صرف نمایاں کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں فخر اور طاقت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا، جس سے نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں ایسے مواد کو قابل اعتراض قرار دیا گیا جس سے جرائم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہریانہ پولیس اور سائبر یونٹ نے یوٹیوب، اسپاٹیفائی، ایمیزون میوزک، گانا اور جیو ساون جیسے بڑے پلیٹ فارمز سے 67 گانے ہٹوا دیے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کسی ایک مرحلے تک محدود نہیں بلکہ اس مہم کو مزید وسعت دی جائے گی۔

ڈی جی پی ہریانہ اجے سنگھل نے اس اقدام کو معاشرے اور بالخصوص نوجوان نسل کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقصد صرف جرائم کی روک تھام نہیں بلکہ نوجوانوں کو جرائم کی دنیا میں دھکیلنے والے عوامل کا خاتمہ بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہریانہ پولیس نے تشدد یا جرائم پر اکسانے والے مواد کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور کسی بھی پلیٹ فارم کو ایسا مواد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایس ٹی ایف کے انسپکٹر جنرل ساتھیش بالن نے بھی ڈیجیٹل مواد کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے گلوکاروں، گیت نگاروں اور دیگر تخلیق کاروں سے رابطہ کیا ہے اور انہیں تشدد، ہتھیاروں اور غنڈہ گردی کی تشہیر سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق ایسا مواد معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کو جنم دیتا ہے اور مجرمانہ رجحانات کو تقویت دیتا ہے۔

ایس ٹی ایف کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس نے غیرملکی ہینڈلرز کے ذریعے دہشت گردی اور گینگسٹر نیٹ ورکس کے گٹھ جوڑ کو توڑنے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ واضح رہے کہ انڈیا میں ایسے گانوں پر کافی عرصے سے تنقید کی جا رہی تھی جن میں بندوق، تشدد اور جرائم کو اسٹیٹس سمبل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور عوامی دباؤ کے بعد اب ان کے خلاف عملی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
 

Load Next Story