افغانستان میں غربت اور جبر، طالبان کے خلاف بغاوت کا خدشہ

سابق افغان وزیر انوارالحق احادی نے خبردار کیا ہے کہ جابرانہ حکمرانی اور معاشی بدحالی سے ملک میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے

کابل: افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت، بیروزگاری اور سیاسی بحران کے باعث طالبان حکومت کے خلاف عوامی غصے میں اضافے اور ممکنہ بغاوت کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

افغان میڈیا افغان انٹرنیشنل کے مطابق سابق افغان وزیر انوارالحق احادی نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کی جانب سے جابرانہ حکمرانی، معاشی بدحالی اور عوامی مسائل کو نظر انداز کرنے کے باعث ملک میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

انوارالحق احادی کا کہنا تھا کہ افغان عوام شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور طالبان سے اقتصادی بحران اور روزگار کے مسائل پر جوابدہی کی توقع رکھتے ہیں، مگر حکومت کی تمام توجہ اقتدار کو مضبوط بنانے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

دوسری جانب یونیسف کے مطابق افغانستان میں تقریباً نصف بچے شدید غذائی غربت کا شکار ہیں، جبکہ ورلڈ بینک کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں ہر چار میں سے ایک نوجوان بیروزگار ہے۔

افغان خواتین کی تنظیم روا (RAWA) نے افغانستان کو خواتین کے لیے دنیا کا بدترین ملک قرار دیا ہے، جہاں تعلیم، روزگار اور بنیادی حقوق تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔

متعلقہ

Load Next Story