غیر قانونی افغان پناہ گزین سکیورٹی چیلنج بن گئے، ترکیہ کی رپورٹ
مختلف ممالک میں افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آتی جا رہی ہے، جنہیں میزبان ممالک کی جانب سے ایک بڑھتا ہوا سکیورٹی اور امیگریشن چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
جرمنی اور ایران کے بعد اب ترکیہ میں بھی غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے شہر شانلی عرفا میں مزید 14 غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان مہاجرین کو غیر قانونی نقل و حمل میں مدد فراہم کرنے والے تین سہولت کاروں کو بھی حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق گرفتار افغان باشندے ایک ٹرک میں چھپ کر غیر قانونی طور پر سفر کر رہے تھے۔ گرفتاری کے بعد تمام پناہ گزینوں کو فوری طور پر ڈیپورٹیشن سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل 3 جنوری کو دیاربکر سے 32 جبکہ 10 جنوری کو توکات اور بولو سے مزید 18 غیر قانونی افغان مہاجرین کو گرفتار کیا گیا تھا۔
ترکیہ کی مائیگریشن ایجنسی کی جانب سے جاری تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر سے 1 لاکھ 52 ہزار غیر قانونی پناہ گزین گرفتار کیے گئے، جن میں افغان باشندے سرِفہرست ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گرفتار افراد میں 42 ہزار افغان شہری شامل ہیں۔