’یہ صرف آگ نہیں تھی‘، سانحۂ گل پلازہ پر شوبز شخصیات کا دکھ کا اظہار

’’جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھودیا، ایسے نقصان کے لیے الفاظ کافی نہیں‘‘ شوبز شخصیات کا ردعمل

کراچی کے تاریخی گل پلازہ میں آتشزدگی کے سانحے نے نہ صرف شہریوں بلکہ پورے پاکستان کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا۔ ہفتے کے اختتام پر جب شعلوں میں گھری عمارت کی تصاویر موبائل اسکرینز اور ٹی وی چینلز پر سامنے آئیں تو ہر طرف افسوس اور بے یقینی کی کیفیت تھی۔ 

اس سانحے پر شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی کئی معروف شخصیات نے بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اداکارہ ہانیہ عامر نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’’گل پلازہ میں جو ہوا وہ تباہ کن ہے۔ جانیں اس طرح ضائع ہوئیں جو کبھی نہیں ہونی چاہئیں۔ یہ صرف ایک حادثہ نہیں تھا، یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کس طرح لاپرواہی، نظر انداز حفاظت، اور خاموشی حقیقی لوگوں کو ان کے مستقبل کی قیمت دیتی ہے۔ ہم تعزیت سے زیادہ متاثرین کے مقروض ہیں، ہم ان کے احتساب کے مرہون منت ہیں۔ خاندانوں کو ناقابل تصور نقصان میں طاقت ملے۔‘‘

اداکارہ سجل علی نے لکھا: ’’گل پلازہ میں کیا ہوا دیکھ کر دل ٹوٹ گیا۔ میری دعائیں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھودیا ایسے نقصان کے لیے کوئی الفاظ کافی نہیں ہیں۔‘‘

اداکارہ و گلوکار ثمر جعفری، اداکارہ ژالے سرحدی اور کامیڈین علی گل پیر نے بھی مرحومین کے لیے دعائیں کیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی امید ظاہر کی۔

ریپر ایوا بی اور اداکارہ منال خان نے گل پلازہ سے جڑی اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے اس سانحے پر افسوس کا اظہار کیا۔ منال خان نے اپنے بیان میں کراچی کے حالات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہر، جو ملک کا معاشی دل ہے، ایک ’اجنبی یتیم‘ کی طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے، جسے نہ صوبہ پوری طرح اپناتا ہے اور نہ ہی مرکز۔

اداکارہ یشما گل اور فلم ساز عدنان ملک نے عمارت میں حفاظتی انتظامات کی کمی اور فائر سیفٹی پر نگرانی کے فقدان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ عدنان ملک نے بتایا کہ وہ ایک ماہ قبل گل پلازہ گئے تھے اور تب ہی انہیں عمارت کا ڈیزائن گھٹن زدہ اور خطرناک محسوس ہوا تھا۔

معروف میزبان انوشے اشرف نے اس سانحے کو لاہور میں ہونے والی جنید صفدر کی شاہانہ شادی کی تقریبات سے جوڑتے ہوئے ایک تلخ موازنہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف اقتدار کے ایوانوں کے قریب جشن منائے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف کراچی کے عوام تکلیف، بے بسی اور نقصان کا سامنا کر رہے ہیں، جو ہمارے نظام کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔

اداکارہ صبور علی نے بھی اس المیے پر ردِعمل دیتے ہوئے بس اللہ سے رحم کی دعا کی اور کہا کہ الفاظ اس دکھ کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔

Load Next Story