چین کو بڑا آبادیاتی جھٹکا، شرحِ پیدائش تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی
بیجنگ: چین میں شرحِ پیدائش کم ہو کر تاریخ کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال چین میں صرف 79 لاکھ 20 ہزار بچے پیدا ہوئے، جو 1949 کے بعد ریکارڈ کی گئی سب سے کم تعداد ہے۔
چینی نیشنل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 2025 میں فی ہزار افراد پر پیدائش کی شرح 5.63 رہی، جبکہ ایک سال میں بچوں کی پیدائش میں 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس طرح چین کی آبادی مسلسل چوتھے سال بھی کم ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال چین کی مجموعی آبادی میں 33 لاکھ 90 ہزار افراد کی کمی ہوئی۔ اسی دوران ایک کروڑ 13 لاکھ اموات ہوئیں، جس کے باعث مجموعی آبادی میں کمی کی رفتار مزید تیز ہوگئی۔
ماہرین کے مطابق چین اس وقت ایک سنگین آبادیاتی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ چین کی آبادی موجودہ 1.4 ارب سے کم ہو کر 2100 تک 80 کروڑ تک رہ سکتی ہے۔
حکومت کی جانب سے ون چائلڈ پالیسی ختم کرنے، بچوں کے لیے سبسڈی دینے اور سرکاری کنڈرگارٹن فیس ختم کرنے جیسے اقدامات کے باوجود نوجوان جوڑے زیادہ اخراجات، ملازمت کے دباؤ اور مستقبل کے خدشات کے باعث بچے پیدا کرنے سے گریزاں ہیں۔
چین میں شادیوں کی شرح بھی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جبکہ نوجوان نسل کا کہنا ہے کہ حکومتی مراعات مسئلے کے حل کے لیے ناکافی ہیں۔