سرد موسم دل کے مریضوں کے لیے خطرہ: کن باتوں کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے؟
سردیوں کا موسم عام افراد کے لیے تو خوشگوار ہو سکتا ہے، مگر دل کے مریضوں کے لیے یہ وقت خاص احتیاط کا متقاضی ہوتا ہے۔
سردیوں کے دوران درجۂ حرارت میں اچانک کمی، دھند، خشک ہوا اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں دل سے متعلق مسائل کے خطرے کو بڑھا دیتی ہیں۔ ماہرینِ امراضِ قلب کے مطابق سرد موسم میں دل کے دورے، بلڈ پریشر کے بگڑنے اور فالج جیسے مسائل کے امکانات نسبتاً بڑھ جاتے ہیں، اسی لیے اس موسم میں چند بنیادی احتیاطی اصولوں پر عمل بے حد ضروری ہے۔
سردی دل پر کیوں زیادہ اثر ڈالتی ہے؟
ماہرین کے مطابق سرد موسم میں خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس کے باعث بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔ دل کو خون پمپ کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، جو پہلے سے کمزور دل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سردی میں جسم کا درجۂ حرارت برقرار رکھنے کے لیے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، جو دل کے مریضوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
گرم لباس: دل کے مریضوں کے لیے پہلی حفاظتی دیوار
سرد موسم میں مناسب اور گرم لباس پہننا دل کے مریضوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ خاص طور پر سینہ، گردن، سر اور ہاتھ پاؤں کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے کیونکہ جسم کے یہ حصے زیادہ تیزی سے سردی محسوس کرتے ہیں۔ صبح سویرے اور رات کے وقت غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنا بہتر ہوتا ہے، کیونکہ ان اوقات میں سردی کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
خوراک میں اعتدال اور درست انتخاب
سردیوں میں عموماً مرغن اور بھاری کھانا کھانے کا رجحان بڑھ جاتا ہے، جو دل کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین دل کے مریضوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ نمک اور چکنائی کا استعمال محدود رکھیں، سبزیاں، پھل، دالیں اور فائبر سے بھرپور غذا کو ترجیح دیں۔ مچھلی، زیتون کا تیل اور اخروٹ جیسے غذائی اجزا دل کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں، جبکہ بازاری جنک فوڈ اور تلی ہوئی اشیا سے پرہیز بہتر ہے۔
بلڈ پریشر اور شوگر پر باقاعدہ نظر رکھنا
سرد موسم میں بلڈ پریشر اور شوگر لیول میں اچانک اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ دل کے مریض باقاعدگی سے اپنا بلڈ پریشر اور شوگر چیک کریں اور کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں فوری طور پر معالج سے رابطہ کریں۔ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے دواؤں میں رد و بدل کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
ورزش ترک نہ کریں، مگر احتیاط کے ساتھ
سردی کے باعث جسمانی سرگرمی کم ہو جانا بھی دل کے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہلکی پھلکی ورزش، جیسے گھر کے اندر چہل قدمی، اسٹریچنگ یا ہلکی یوگا، دل کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ تاہم ٹھنڈے موسم میں کھلے آسمان تلے سخت ورزش یا صبح بہت جلد واک کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ دل پر اچانک دباؤ ڈال سکتی ہے۔
سردیوں میں پانی کی کمی بھی نقصان دہ
اکثر لوگ سردیوں میں پیاس کم لگنے کی وجہ سے پانی کم پیتے ہیں، جس سے خون گاڑھا ہو سکتا ہے اور دل پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سرد موسم میں بھی مناسب مقدار میں پانی اور گرم مشروبات کا استعمال جاری رکھا جائے، تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔
ذہنی دباؤ اور نیند کا خاص خیال
سردیوں میں نیند کے معمولات اور موڈ پر بھی اثر پڑتا ہے۔ ذہنی دباؤ، اداسی اور سستی دل کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مناسب نیند، مثبت سرگرمیاں، عبادت، مطالعہ اور گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی سکون کے لیے مفید ہے، جو بالواسطہ طور پر دل کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔
خطرے کی علامات کو نظر انداز نہ کریں
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر سینے میں درد، سانس میں تنگی، بے چینی، غیر معمولی پسینہ یا دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی محسوس ہو تو اسے سردی یا تھکن سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ ایسی علامات کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا جان بچا سکتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ
ماہرینِ امراضِ قلب کے مطابق سردیوں میں دل کے مریضوں کو اپنی روزمرہ روٹین میں احتیاط، نظم و ضبط اور باقاعدہ طبی مشورے کو ترجیح دینی چاہیے۔ مناسب لباس، متوازن خوراک، ہلکی ورزش اور ذہنی سکون کے ساتھ سرد موسم بھی دل کے مریض محفوظ طریقے سے گزار سکتے ہیں۔
سردی سے بچاؤ دراصل دل کی حفاظت ہے، اور بروقت احتیاط کئی سنگین پیچیدگیوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔