پاکستان مخالف بالی ووڈ فلم ’بارڈر 2‘ پر جاوید اختر کی شدید تنقید
پاکستان کی مخالفت میں اندھا بالی ووڈ نیا مواد تخلیق کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا، پرانی فلموں اور گانوں پر ہی اکتفا کرنے پر اپنے ہی لوگ تنقید کرنے لگے۔
حال ہی میں بالی ووڈ کے مشہور نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر نے پاکستان مخالف فلم ’بارڈر 2‘ بنانے والوں پر سخت تنقید کی ہے۔
بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جاوید اختر نے کہا کہ جب اصل گانے غیر معمولی کامیابی حاصل کر چکے ہوں تو انہیں نئے انداز میں پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
ان کے مطابق فلم سازوں کو یا تو نئے اور معیاری نغمات تخلیق کرنے چاہئیں یا یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ وہ ماضی جیسا معیار برقرار نہیں رکھ سکتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسی سوچ کے تحت انہوں نے ’بارڈر 2‘ کے لیے لکھنے سے انکار کیا۔
یاد رہے کہ 1997 میں ریلیز ہونے والی فلم بارڈر کے گیت جاوید اختر ہی نے تحریر کیے تھے، اسی وجہ سے سیکوئل کے لیے بھی ان سے رابطہ کیا گیا، تاہم انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔
جاوید اختر کا کہنا ہے کہ پرانے گیتوں کو دوبارہ استعمال کرنا تخلیقی دیوالیہ پن کے مترادف ہے۔
جاوید اختر نے فلموں میں گانوں کو ری میک کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ جو ماضی کا حصہ بن چکا ہے، اسے وہیں رہنے دینا چاہیے۔
ان کے مطابق نئی فلمیں بن رہی ہیں تو موسیقی بھی نئی ہونی چاہیے، نہ کہ ماضی کی کامیابیوں پر انحصار کیا جائے۔