اقتصادی تعاون تنظیم کا ای سی او وزارتی اجلاس؛ موسمیاتی خطرات کیخلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
این ڈی ایم اے پاکستان کے زیر اہتمام اقتصادی تعاون تنظیم کا دو روزہ دسواں ای سی او وزارتی اجلاس 21 تا 22 جنوری اسلام آباد میں منعقد ہوا، ای سی او ارکان ممالک نے آفات اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون اور مشترکہ اقدامات کو مزید موثر اور مربوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس کی صدارت چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کی۔ یہ پاکستان کی جانب سے پہلی بار آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کے تدارک کے حوالے سے ای سی او اجلاس کی میزبانی ہے۔ ای سی او اجلاس میں رکن ممالک کے وزراء اور، سینئر حکام سمیت متعلقہ عالمی و علاقائی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اختتامی تقریب میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات اور ان کے باعث آنے والی آفات آج کی حقیقت ہیں۔
وزارتی اجلاس میں 21 جنوری کو ہوئے اعلی سطح ورکنگ گروپ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ بعدازاں اجلاس کے دوسرے روز ای سی او وژن 2025ء اور سینڈائی فریم ورک سے ہم آہنگ اسلام آباد کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
آذربائیجان کے نائب وزیر ایمرجنسی حالات نے آفات اور موسمیاتی خطرات کی بڑھتی ہوئی شدت سے نمٹنے کے لیے علاقائی ہم آہنگی پر زور دیا۔
کرغزستان کے نائب وزیر نے مشترکہ تیاری، صلاحیت سازی اور پیشگی آگاہی اور تیاری کے موثر اور مربوط نظام کی ضرورت پر زور دیا۔
تاجکستان کے نائب چیئرمین نے موسمیاتی تبدیلیوں کو آفات اور خطرات میں شدت کی بڑی وجہ قرار دیا ۔
ترکیہ کے سربراہ آفاد نے مشترکہ تربیت، فرضی مشقوں اور زلزلہ کے حوالے سے معلومات کے فوری تبادلہ کے لیے اقدامات تجویز کیے۔
ازبکستان کے نائب وزیر نے ادارہ جاتی تعاون اور عملی اقدامات پر زور دیا۔
پاکستان نے ای سی او خطے میں آفات اور ممکنہ خطرات کے تدارک کے لیے جدید اور جامع حکمتِ عملی تشکیل دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ای سی او ارکان ممالک نے آفات اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون اور مشترکہ اقدامات کو مزید موثر اور مربوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
این ڈی ایم اے کے ممبر ڈی آر آر محمد ادریس محسود نے این ای او سی کے ذریعے پیشگی آگاہی اور تیاری کے لیے اقدامات پر زور دیا۔ ترکمانستان اور ایران نے ای سی اولائحہ عمل کے تحت علاقائی تعاون کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
پاکستان کی جانب سے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کو ای سی او ممالک کے لیے آفات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ سینٹر کے طور پر استعمال کرنے کی پیشکش کی گئی۔ ای سی او رکن ممالک نے این ڈی ایم اے کے این ای او سی ماڈل کو خطے میں مشترکہ طور پر فعال بنانے پر اتفاق کیا۔
اجلاس میں مشترکہ تربیتی پروگرامز اور جامع بین الاقوامی فرضی مشقوں کے انعقاد کی منظوری دی گئی۔ ای سی او ممالک کے لیے تمام ممکنہ آفات اور علاقائی سطح پرخطرات کی تشخیص کی منظوری ہوئی۔
تلاش اور بچاؤ کے اقداما ت کے لیے صلاحیتی دائرہ کار، سامان کی ترسیل اور امدادی اقدامات میں مشترکہ تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ ترکیہ کی جانب سے زلزلہ سے متعلق مشترکہ معلوماتی سینٹر کے قیام کی پیشکش کا خیرمقدم کیا گیا۔
رکن ممالک کی جانب سے یو این ای ایس سی اے پی، اے پی ڈی آئی ایم اور یونیسف کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ ای سی او رکن ممالک میں بچوں کے لیے آفات اور ممکنہ خطرات سے متعلق کارٹون ویڈیو منصوبے کا اجرا کیا گیا۔
اسلام آباد اعلامیے کے مطابق اجلاس میں خواتین، نوجوانوں لڑکیوں، معذور افراد اور دیگر کمزور طبقات کو بااختیار بنانے پر زور دیا گیا۔ جامع حکومتی اور سماجی اشتراک سے آفات اور موسمیاتی خطرات کے تدارک کے لیے اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ای سی او رکن ممالک نے تمام اقدامات کو ای سی او لائحہ عمل 2035ء کے مطابق جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ای سی او سیکرٹریٹ کے ذریعے آفات سے نمٹنے اور خطرات کے تدارک کے حوالے سے تمام منصوبوں کی پیش رفت کے جائزہ کے مؤثر لائحہ عمل کی منظوری دی گئی۔
چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا، اسلام آباد اعلامیہ ای سی او ممالک کے عوام کے تحفظ کا مشترکہ عزم ہے، پاکستان این ای او سی کے ذریعے ای سی او ممالک کو تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔