خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کورکمانڈر کے ساتھ ملکر کام کررہے ہیں، عسکری ذرائع
فوٹو: فائل
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور کورکمانڈر مل کر کام کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عسکری ذرائع نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی تب ختم ہوگی جب نیت ٹھیک ہو گی،نیشنل ایکشن پلان کا پہلا نکتہ فوجی آپریشن ہے جو کر رہے ہیں۔
عسکری ذرائع نے کہا کہ بلوچستان پہلے نمبر پر ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں گورننس بہتر نہیں چل رہی وہاں تین ہزار تین سو ملازمین ہیں جو پورا نہیں اتر سکتے۔
عسکری ذرائع نے کہا کہ طالبان کو بتایا ہے کہ ہم معافی نہیں دیں گے، ہمیں انہیں ٹھیک کرنا ہے۔
عسکری ذرائع نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی انسداد دہشت گردی عدالتوں میں اس وقت 2 ہزار 968 کیسز زیر التواء ہیں، صرف 3 سالوں میں ملک بھر میں 677 اور کے پی میں 621 کیسز پر التوا دیا گیا۔
عسکری ذرائع نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخوا کی پولیس بہت بہادر ہے تاہم اُسے اگر فری ہیںڈ دیا جائے تو ہی وہ کام کرسکتی ہے۔
عسکری ذرائع نے ایک سوال کے جواب میں استفسار کیا کہ کے پی کے میں آپریشن نہ کریں توکیا صوبے کو نورولی محسود کے حوالے کر دیں؟
آخری میں عسکری ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ اورکورکمانڈر مل کر کام کر رہے ہیں۔