سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ نامعلوم افراد کیخلاف درج، غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل

سانحہ گل پلازہ کے بعد 82 لاپتہ افراد کی مرتب کی گئی جس میں سے 71 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، ڈپٹی کمشنر

فوٹو: فائل

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر پولیس نے سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا جس میں قتل بالسبب اور غفلت و لاپروائی سمیت دیگر دفعات کو شامل کیا گیا ہے، درج کیے جانے والے مقدمے کو سیل کر دیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر داخلہ کی آئی جی سندھ کو دی جانے والی ہدایت کے بعد سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ نمبر 8 سال 2026 بجرم دفعات 322 ، 427 ، 436 اور 337 ایچ ون کے تحت نبی بخش پولیس نے سرکار کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا ہے جس میں قتل بالسبب اور غفلت و لاپرائی سمیت دیگر دفعات کو شامل کیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد 82 لاپتہ افراد کی مرتب کی گئی فہرست میں سے 71 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے تاہم ہفتے کو مزید کوئی لاش یا باقیات نہیں مل سکی۔ انہوں نے بتایا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے مزید 2 افراد کو شناخت کرلیا گیا جس کے بعد شناخت کی گئی لاشوں کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی۔

 تباہ حال گل پلازہ پر تاجروں رہنماؤں نے بھی دورہ کیا اور میڈیا سے بات میں حکومت کو کڑی تنقید کا بھی نشانہ بنایا ۔

17 جنوری ہفتے کی شب سوا دس بجے گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کو گزشتہ روز ایک ہفتہ گزر گیا جس میں 71 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ گل پلازہ میں 82 لاپتہ افراد کی فہرست مرتبی کی گئی ہے تاہم تصدیق کرنے کے بعد لاپتہ افراد کی فائنل لسٹ تیار کی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ سانحے میں 71 لاشیں مل چکی ہیں اور جو اب تک لاپتہ ہیں انھیں بھی جلد تلاش کرلیا جائیگا ، انھوں ںے بتایا کہ کچھ ٹیکنیکل وجوہات کی بنا پر آج سرچ آپریشں مکمل نہیں کر پائے تاہم گل پلازہ کی عمارت کو 90 فیصد سرچ کرلیا ہے، سرچنگ کا عمل بہت مشکل کام ہے اس لیے وقت زیادہ لگ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کے ریسکیو آپریشن میں ہمیں نقد رقم اور گولڈ بھی ملا جو کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔ اس موقع پر ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سٹی عارف عزیز نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ نمبر 8 سال 2026 بجرم دفعات 322 ، 427 ، 436 اور 337 ایچ ون کے تحت نبی بخش پولیس نے سرکار کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا ہے جس میں قتل بالسبب اور غفلت و لاپرائی سمیت دیگر دفعات کو شامل کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو مقدمہ درج ہوا ہے وہ ٹھیک ہے ، ابھی ہم تفتیش کر رہے ہیں جو ہم آپ کے سامنے بھی لائینگے، مقدمہ درج ہو چکا ہے، بیسمنٹ سے ایک ڈی وی آر ملا ہے جس پر کام چل رہا ہے۔

سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ درج ہونے کے بعد انویسٹی گیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے گل پلازہ کے چوکیداروں ، دکانداروں اور انتظامیہ کے عہدیداروں کے بیانات قلمبند کیے جائینگے اور تفتیش میں اس بات کا بھی تعین کیا جائیگا کہ آگ کیسے لگی، فائر بریگیڈ کا عملہ کب پہنچا ، آگ کس دکان میں لگی اور اس کی کیا وجہ تھی ، گل پلازہ کے کتنے گیٹ کھلے اور بند تھے ، ہنگامی اخراج کے کتنے راستے تھے۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام کی اجازت سے تحقیقات میں اگر ضرورت ہوئی تو ماہرین کی بھی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

ہفتے کی شب گل پلازہ مینجمنٹ کے صدر تنویر پاستا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ گل پلازہ کے نام سے فنڈ اکھٹا کر رہے ہیں ، گل پلازہ نے پہلے کسی این جی او سے پیسہ لیا ہے اور نہ ہی اب لینگے۔

انہوں نے کہا کہ جعل ساز ہمارے نام پر فراڈ کر رہے ہیں انھیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا، سندھ حکومت کراچی چیمبر کے توسط سے ہماری مدد کر رہی ہے ، جو بھی تحقیقات ہو رہی ہیں ہم یہیں موجود ہیں ، سانحہ گل پلازہ میں زندگی کی بازی ہارنے والوں میں شامل مزید 4 افراد کی شناخت ڈی این اے کی مدد سے ہوگئی جس کے بعد شناخت کی گئی لاشوں کی تعداد 22 ہوگئی۔

انچارج شناخت پروجیکٹ سی پی ایل سی عامر حسن کے مطابق شناخت کی جانے والی 2 لاشوں کی شناخت محمد اطہر اور محمد شیش کے نام سے کی گئی۔

 گل پلازہ کا دورہ کرنے والے تاجر رہنماؤں کی جانب سے حکومت سندھ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ تاجر رہنما کاشف چوہدری نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ زندہ جلی ہوئی لاشیں ، انسانی ہڈیاں ناقابل شناخت اعضا ، لوگ مدد کے لیے پکار رہے تھے لیکن کوئی مدد نہیں کر رہا تھا، لاشوں کی تعداد کم کرنے کے لیے ہیوی مشینری استعمال کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی پر اعتماد نہیں ہے، سانحہ گل پلازہ کی عدالتی کمیشن بنے ، کمیشن میں تاجروں کو بھی شامل کیا جائے وزیر اعلیٰ نے ایک کروڑ کا اعلان کیا، انسان پیسوں سے نہیں خریدے جاتے، وزیر اعلیٰ سندھ اور مئیر کراچی کو استعفی دینا چائیے تھا ، اعلانات سے آگے بڑھیں ، 5 سے 6 ارب تک نقصان ہوا۔

کاشف چوہدری نے کہا کہ تاجروں کی خوشیاں اس آگ مین جل گئیں ، پاکستان میں سوگ کی فیضا ہے ، تاجر ایکشن کمیٹی کا اعلان کیا گیا ہے ، 16 رکنی کمیٹی اس کا حصہ ہوگی ، کمیٹی سندھ حکومت سے اور آرمی چیف سے بھی رابطہ کریگی ، کمیٹی ہر ادارے سے رابطے کرے گی اور ٹائم لائن سیٹ کریگی اور اگر مطالبات حل نہیں ہوئے کراچی اور پاکستان شٹر ڈاؤن ہڑتال اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ بھی کریںگے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت 90 فیصد کام مکمل کا بول رہی ہے جبکہ ابتک کچھ ہی فیصد کام ہوا ہے۔

آل کراچی تاجر الائنس کے رہنما حکیم شاہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کی نااہلی سندھ حکومت اس سانحہ میں دیکھ رہے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی ، کہا جارہا ہے کہ 90 فیصد کام مکمل کرلیا ہے لیکن 10 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہوا، کام کرنے کے بجائے اس دوسرے پر الزامات لگائے جارہے ہیں ، 1990 کے نقشے نکال کر سیاست کی جارہی ہے ، جو جو تاجر متاثر ہوا ہے اس کو سپورٹ کی جائے اور یہ ازالہ سالوں اور مہینوں میں نہیں بلکہ دنوں میں کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ نہیں کیا گیا تو اس کے خلاف سڑکوں پر آئیں اور اگر پورے پاکستان کی بھی دکانیں بند کرنی پڑی تو وہ بھی کریںگے۔

تاجر رہنما رضوان عرفان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے سے زائد کا وقت گزر گیا ابتک ملبہ نہیں اٹھا جا سکا، متاثرین دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں وہ ہی نامعلوم کے خلاف مقدمہ درج ہوا، نامعلوم ہمیشہ نامعلوم ہے جسے اب معلوم ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ فائر فائٹرز اندر عمارت کے بجائے دیواروں پر پانی مارتے رہے ، کے ایم سی فائر بریگیڈ کی کیا حالت ہے ، 5 لاکھ فوری دینے کا کہا جو ناکافی ہے، عید آنے والی ہے مال کی مد میں 15 ارب کا نقصان ہوا ، وزیر اعلیٰ کے پاس پاور ہے فوری پیسہ دیا جائے اور اگر کوئی ملوث ہو تو اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

تاجر رہنما عتیق میر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے مقامات پر بھی حکمران ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہیں ، فائر بریگیڈ کا عملہ آگ بجھانے کا انتظام کر رہا تھا ، کیا کوئی ہیلی کاپٹر آیا آگ بجھانے؟ مقدمہ قتل کا حکومت کے خلاف ہونا چاہیے۔

متعلقہ

Load Next Story