امریکا میں امیگریشن پولیس کی فائرنگ سے نرس ہلاک، ملک بھر میں ہنگامے
امریکا کے شہر منیاپولس میں وفاقی امیگریشن ادارے آئی سی ای (ICE) کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک امریکی شہری اور نرس کی ہلاکت پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
واقعے کے بعد مقامی رہنماؤں، سیاست دانوں اور ہالی ووڈ شخصیات کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ واقعے سے متعلق متضاد بیانات نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 37 سالہ الیکس پریٹی، جو ایک آئی سی یو نرس تھے، کو ہفتے کے روز وفاقی اہلکاروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ ایک ایسے ہی دوسرے واقعے کے چند ہفتوں بعد پیش آیا جس میں آئی سی ای اہلکاروں کے ہاتھوں ایک اور شہری ہلاک ہوا تھا۔
امریکی محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ الیکس پریٹی کے پاس پستول اور گولیاں موجود تھیں، تاہم موبائل فون ویڈیوز میں سرکاری موقف سے اختلاف کیا جا رہا ہے۔ مقتول کے والدین نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا بیٹا اس وقت اسلحہ تھامے ہوئے نہیں تھا جب اس پر فائرنگ کی گئی۔
منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز نے واقعے کو “ہولناک” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات وفاقی حکومت کے بجائے ریاستی ادارے کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت پر اس معاملے میں اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی سطح پر بھی واقعے کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ امریکی سینیٹر بل کیسڈی نے کہا ہے کہ آئی سی ای اور محکمہ داخلہ کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے اور مکمل وفاقی و ریاستی تحقیقات ناگزیر ہیں۔
منی اپولس کے میئر جیکب فری نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں جاری امیگریشن آپریشن ختم کیا جائے تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔
یہ واقعہ سنڈینس فلم فیسٹیول میں بھی موضوعِ بحث بنا جہاں معروف اداکاراؤں اولیویا وائلڈ اور نیٹلی پورٹ مین نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ یقین اور شرمناک قرار دیا۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما نے بھی مشترکہ بیان میں واقعے کو امریکی اقدار کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا اور حکومت پر حالات مزید بگاڑنے کا الزام عائد کیا۔