عمران خان کی دائیں اۤنکھ میں خطرناک بیماری کی تشخیص کی خبر پر بیرسٹر گوہر کا اظہار تشویش

بانی کی آنکھ میں انفیکشن کی بات میڈیا سے پتہ چلی ہے اگر ایسا کوئی معاملہ ہے تو یہ تشویش کی بات ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ نہ نیا پاکستان بنا نہ پرانا واپس لوٹا اور نہ ہی ہائبرڈ نظام چل سکا ہے۔ میری گزارش ہے جو بھی بانی سے ملاقات کرا سکتا ہے ملاقات کرا دے۔ جتنا رخنہ ڈالا جائے گا حالات اتنے ہی خراب ہوں گے۔

اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا مزید کہنا تھا کہ آج پاکستان ریورس میں چلا گیا ہے، مجھے بانی کی آنکھ میں انفیکشن کی بات میڈیا سے پتہ چلی ہے اگر ایسا کوئی معاملہ ہے تو یہ تشویش کی بات ہے۔

جب ملاقاتیں ہوں گی تو سیاست ہوگی پھر مختلف باتیں بھی جنم لیں گی، فیملی کی ملاقاتوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے، پورا سسٹم جب ساکت ہو جائے عدلیہ کام نہ کرے تو عوام باہر نکلے گی، یہ وہ ملک نہیں جس کی لوگوں نے خواہش کی تھی۔

سیاست میں ایک دوسرے کو اسپیس دینی پڑتی ہے، جتنی مرضی قانون سازی اور آئینی ترامیم کریں، جب تک لوگوں کے دلوں میں آپ کی عزت نہ ہو اس قانون سازی کا کوئی فائدہ نہیں، اگر آپ آٹھ فروری تک ملاقاتیں بند رہیں تو کیا 9 فروری کو سیاست ختم ہو جائے گی۔

بانی نے اچکزئی صاحب اور علامہ ناصر کو مینڈیٹ دیا ہے ان کی جوڑی اب پوری ہوگئی ہے، دونوں اپوزیشن لیڈرز اب فیصلہ کریں گے کس کے ساتھ مذاکرات کرنے ہیں اور کب کرنے ہیں، 8 فروری کی کال واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، غیر ذمہ دارانہ بیانات نہیں دیئے جانے چاہیئے۔

کسی کا باپ کسی کی بہن جیسے الفاظ استعمال نہیں کیئے جانے چاہیئے، سب کو کہتا ہوں اپنی زبانوں پر قابو رکھیں، دہشتگردی کے ایشو پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے نہ نرم گوشہ ہونا چاہیئے۔

Load Next Story