اسپین کا پانچ لاکھ غیرقانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ
میڈرڈ: اسپین کی حکومت نے ملک میں مقیم تقریباً پانچ لاکھ غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ہسپانوی وزیر برائے مائیگریشن ایلماسیز نے بتایا کہ حکومت ایک سرکاری حکم نامے کی منظوری دینے جا رہی ہے، جس کے تحت بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کو قانونی رہائش اور کام کی اجازت ملے گی۔
وزیر مائیگریشن کا کہنا تھا کہ مستفید ہونے والوں کی حتمی تعداد میں کمی بیشی ہو سکتی ہے، تاہم قانونی حیثیت ملنے کے بعد یہ افراد اسپین کے کسی بھی حصے میں اور کسی بھی شعبے میں کام کر سکیں گے۔
ان کے مطابق حکومت امیگریشن کا ایسا نظام متعارف کرانا چاہتی ہے جو انسانی حقوق، سماجی شمولیت، معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے اصولوں پر مبنی ہو۔
یہ فیصلہ یورپ کے کئی ممالک میں سخت امیگریشن پالیسیوں کے برعکس اسپین کا ایک نمایاں اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
فیصلے سے کون فائدہ اٹھا سکے گا؟
اس پالیسی سے وہ تارکینِ وطن فائدہ اٹھا سکیں گے جو کم از کم پانچ ماہ سے اسپین میں مقیم ہیں۔ درخواست دہندگان کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہونا ضروری ہوگا۔ یہ فیصلہ ان بچوں پر بھی لاگو ہوگا جو پہلے ہی اسپین میں رہائش پذیر ہیں۔
درخواستیں جمع کرانے کا عمل اپریل میں شروع ہونے کی توقع ہے اور جون کے آخر تک جاری رہے گا۔ خبر ایجنسی کے مطابق اس منصوبے کو سرکاری فرمان کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جس کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری درکار نہیں ہوگی۔
دوسری جانب قدامت پسند اور دائیں بازو کی اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے غیرقانونی امیگریشن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا ہے کہ ملک کو افرادی قوت کی کمی پوری کرنے اور بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے امیگریشن کی ضرورت ہے۔
تھنک ٹینک فنکاس کے مطابق جنوری 2025 کے آغاز میں اسپین میں تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار غیرقانونی تارکینِ وطن مقیم تھے، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 4 کروڑ 94 لاکھ کی آبادی میں 70 لاکھ سے زائد غیر ملکی مہاجرین شامل ہیں۔