روس یوکرین جنگ: دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ فوجی ہلاکتیں، جانی نقصان 20 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی تحقیق کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھا جا سکتا

کیف: ایک بین الاقوامی تحقیقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں دونوں ممالک کے مجموعی فوجی جانی نقصان کی تعداد جلد 20 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو موسمِ بہار تک ہلاکتوں، زخمیوں اور لاپتہ فوجیوں کی مجموعی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کی رپورٹ کے مطابق فروری 2022 سے دسمبر 2025 تک روس کو تقریباً 12 لاکھ فوجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ساڑھے تین لاکھ کے قریب ہلاکتیں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی بھی بڑی عالمی طاقت کو کسی ایک جنگ میں اتنا زیادہ جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین، جس کی فوج اور آبادی نسبتاً کم ہے، اسے بھی پانچ سے چھ لاکھ فوجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ایک لاکھ 40 ہزار تک ہلاکتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم دونوں ممالک اپنے فوجی نقصانات کے اعداد و شمار باقاعدگی سے جاری نہیں کرتے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ روس میدانِ جنگ میں پیش قدمی کے دعوے کر رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے معمولی علاقائی کامیابیوں کے لیے غیر معمولی جانی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جس سے اس کی عسکری طاقت کمزور ہو رہی ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی تحقیق کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھا جا سکتا اور فوجی نقصانات سے متعلق درست معلومات صرف روسی وزارتِ دفاع ہی فراہم کر سکتی ہے۔

ادھر یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر روسی حملے جاری ہیں۔ حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ رہائشی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔

ماہرین کے مطابق جنگ اب ایک طویل اور تھکا دینے والی کشمکش کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں دونوں جانب انسانی اور عسکری نقصانات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور فوری امن کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

Load Next Story