صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری انتقال کرگئے
آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے اہم رہنما بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 71 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اور موجودہ ریاستی صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری ہفتے کے روز علالت کے باعث انتقال کرگئے۔
سلطان محمود چوہدری 1996 سے 2001 تک آزاد کشمیر کے وزیراعظم رہے جبکہ وہ 1991 سے 2001 تک پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے صدر بھی رہے تھے۔
اس وقت بیرسٹر سلطان آزاد کشمیر کے ریاستی صدر تھے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی نماز جنازہ کل بروز اتوار کرکٹ اسٹیڈیم میرپور میں شام چار بجے ادا کی جائے گی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری، چیئرمین سینیٹ، وزیراعظم آزاد کشمیر سمیت دیگر سیاسی قائدین نے سلطان محمود چوہدری کے انتقال پر تعزیتی بیانات جاری کیے اور انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور نے بیرسٹر سلطان محمود کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا۔
سفر زندگی
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی مستند اورمؤثر آواز سمجھا جاتا تھا۔
بیرسٹر سلطان چوہدری 9 اگست 1955ء کو چیچیاں میرپور ازاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے ابائی گاؤں چیچیا ں میر پور میں حاصل کی جبکہ میٹرک کینٹ پبلک سکول راولپنڈی سے کیا جبکہ گریجویشن گورڈن کالج راولپنڈی سے کیا۔
بعداذاں وہ اعلی تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے جہاں سے انہوں نے معروف قانونی درس کا لنکنن ان سے قانون کی اعلی ڈگری بار ایٹ لا حاصل کی جبکہ 1983ء میں وہ برطانیہ سے واپس وطن واپس آئے اور عملی سیاست کا آغاز کیا۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سابق صدر ازاد کشمیر کے ایچ خورشید کہ ہمراہ ازاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر منتخب ہوئے جبکہ 1990ء میں وہ نامزد صدر کہ عہدے کے لیے منتخب ہوئے تاہم عمر ایک ماہ کم ہونے کی وجہ سے وہ اس وقت صدر منتخب نہ ہو سکے۔
بعد ازاں 1996ء میں وہ آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ اسی طرح 2001 میں وہ ازاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر فائز رہے جبکہ وہ اپنے ابائی حلقے میرپور سے 9 بار ممبر اسمبلی منتخب ہوئے۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری آزاد مسلم کانفرنس، صدرلیبریشن لیگ آزاد کشمیر، صدرپیپلز پارٹی آزاد کشمیر، صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے عہدوں پر بھی فائز رہے۔
وہ 2021ء میں ازاد کشمیر کے صدر منتخب ہوئے۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو جارحانہ اور موثر انداز میں اجاگر کیا۔
انہوں نے اقوام متحدہ، امریکی وزارت خارجہ سمیت مختلف ممالک کی اور پارلیمئنٹس میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں کشمیریوں کے مظاہروں قیادت کی جبکہ لندن کے ٹرافل گر اسکوئر، نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفترکےسامنے مسلز میں یورپی یونین اور یورپی پارلیمنٹ کے سامنے ڈبلن میں آئرلینڈ کی پارلیمنٹ کے سامنے سمیت میں دیوار برلن پر شاندار ملین مارچز کی قیادت بھی کی۔
انہوں نے سفارتی سطح پر اسلام آباد میں تعینات یورپی اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے بے شمار ملاقاتیں کیں اور انہیں مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر بارہا بریفنگ بھی دی۔
وہ ازاد کشمیر کے واحد لیڈر تھے جنہیں مقبوضہ کشمیر کے دورے کا شرف بھی حاصل ہوا ،کشمیر کے دورے کے دوران انہوں نے سری نگر کے تاریخی لال چوک میں کشمیری عوام سے خطاب بھی کیا اسی طرح دورہ سری نگر کے دوران انہوں نے چیئرمین آل پارٹیز کانفرنس سید علی گیلانی، سید شبیر شاہ، چیئرمین آزاد جموں کشمیر، لبریشن فرنٹ یاسین ملک سمیت متعدد کشمیری لیڈروں سے ملاقاتیں بھی کیں ان کا سری نگر کا یہ دورہ خاصی تاریخی اہمیت کا حامل رہا۔
مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں، وہ آزاد کشمیر کے واحد سیاستدان ہیں جنہیں ازاد کشمیر کے ہر حلقہ میں عوامی مقبولیت اور ووٹ بینک حاصل تھا۔