آزاد جموں و کشمیر کے صدر کی نماز جنازہ ادا، جسد خاکی انتہائی اعلیٰ فوجی اعزاز گن کیرج کے ساتھ لایا گیا
آزاد جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری طویل علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کرگئے، ان کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، جسدِ خاکی کو انتہائی اعلیٰ سرکاری اور فوجی اعزاز گن کیرج کے ساتھ جنازہ گاہ تک لایا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آزادریاست جموں و کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 71 سال کی عمر میں کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے لڑتے بالآخر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔
ان کی نمازِ جنازہ قائداعظم اسٹیڈیم میرپور میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی جس میں کمانڈر راولپنڈی کور سمیت آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت، سرکاری حکام اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مرحوم کے جسدِ خاکی کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ اسٹیڈیم لایا گیا، جہاں پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی، جنازے کے بعد میت کو تدفین کے لیے ان کے آبائی گاؤں کھڑی شریف میرپور روانہ کردی گئی۔
زندگی پر ایک نظر
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 25 اگست 2021ء کو آزاد جموں و کشمیر کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان کا تعلق میرپور آزاد کشمیر سے تھا۔ انہوں نے قانون کی اعلیٰ تعلیم برطانیہ سے حاصل کی۔
بیرسٹر سلطان محمود نے عملی سیاست کا آغاز 1983ء میں کیا اور 1985ء میں پہلی بار آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے،وہ 9 مرتبہ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، جو آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں نمایاں اعزاز ہے۔
انہوں نے 30 جولائی 1996ء سے 24 جولائی 2001ء تک آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس دوران انہوں نے انتظامی اصلاحات کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔
بیرسٹر سلطان محمود مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے آزادمسلم کانفرنس کے نام سے سیاسی جماعت قائم کی جس کے بعدوہ پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیرمیں شامل ہوئے اور اس کے پارٹی صدراور وزیراعظم رہے۔
مرحوم نے اقوام متحدہ، یورپی پارلیمنٹ، امریکa اور برطانیہ سمیت عالمی فورمز پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے موٴثر آواز بلند کی اور بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا۔
مرحوم آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں اور تحریکِ آزادی کشمیر کی ایک توانا اور مؤثر آواز کے طور پر جانے جاتے تھے۔
مرحوم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی سیاسی و قومی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
شرکائے نماز جنازہ کا کہنا تھا کہ قوم ایک مدبر، نڈر اور مخلص رہنما سے محروم ہو گئی۔
گن کیرج، ریاستی علامت اور بیرسٹر سلطان محمود چوہدری: ایک عہد کی رخصتی
ریاستیں اپنے محسنوں کو صرف لفظوں میں یاد نہیں رکھتیں، وہ علامتوں، رسومات اور تاریخ کے رسمی اشاروں کے ذریعے ان کے مقام کا تعین کرتی ہیں۔ جب کسی شخصیت کا تابوت گن کیرج پر رکھا جاتا ہے تو یہ محض ایک جنازے کی نقل و حرکت نہیں ہوتی بلکہ یہ ریاست کا وہ خاموش مگر طاقتور اعلان ہوتا ہے جو آنے والی نسلوں کو بتاتا ہے کہ یہ فرد عام شہری نہیں تھا، بلکہ قومی شعور کا حصہ تھا۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی آخری رسومات کا گن کیرج کے ساتھ ادا کیا جانا اسی ریاستی اعلان کی ایک واضح مثال ہے۔
پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں گن کیرج کا اعزاز چند ہی شخصیات کو نصیب ہوا ہے۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح، جنرل محمد ضیاء الحق، عبد الستار ایدھی اور محترمہ رتھ فاؤ، یہ وہ نام ہیں جو ریاستی، سماجی اور اخلاقی خدمات کے استعارے بن چکے ہیں۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا اس فہرست میں شامل ہونا محض ایک رسمی فیصلہ نہیں بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ ان کی جدوجہد، فکر اور وابستگی کو ریاست نے قومی سطح پر تسلیم کیا۔
گن کیرج دراصل فوجی روایت سے کہیں بڑھ کر ایک ریاستی علامت ہے۔ توپ والی فوجی گاڑی، قومی سلامی، منظم فوجی دستہ اور مکمل پروٹوکول اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ متوفی کی خدمات کو معمول کے پیمانوں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ اعزاز ان افراد کو دیا جاتا ہے جنہوں نے ریاست کے تشخص، نظریے یا اخلاقی قدروں کو نئی جہت دی ہو۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا شمار انہی افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے مسئلہ کشمیر کو محض ایک سیاسی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک مسلسل قومی ذمہ داری کے طور پر نبھایا۔
بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی سیاست شخصیت پرستی سے زیادہ مؤقف پرستی کی سیاست تھی۔ وہ منصب کے محتاج نہیں تھے، بلکہ منصب ان کے مؤقف کا محتاج رہا۔ کشمیر ان کے لیے انتخابی موضوع یا وقتی بیانیہ نہیں تھا بلکہ ایک مستقل فکری وابستگی تھی، جس پر وہ اختلافات، تنقید اور سیاسی تنہائی کے باوجود قائم رہے۔ یہی استقامت کسی بھی سیاسی کردار کو تاریخ میں جگہ دیتی ہے۔
دیکھا جائے تو ان کی آخری سواری ایک علامتی سفر ہے.ایک ایسا سفر جو فرد سے نکل کر قوم تک جاتا ہے۔ گن کیرج گویا اس جدوجہد کی تکمیل کا اعلان ہے جو کشمیری شناخت، حقِ خودارادیت اور قومی وقار کے گرد گھومتی رہی۔ یہ رخصتی ذاتی نہیں، اجتماعی ہے؛ یہ غم فرد کا نہیں، تاریخ کا ہے۔
یہ لمحہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم ریاستی اعزازات کو محض جذباتی فیصلوں کے بجائے قومی بیانیے کی تشکیل کے تناظر میں دیکھیں۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو دیا گیا یہ اعزاز اس امر کی مہرِ تصدیق ہے کہ ریاست نے انہیں ایک قومی ہیرو اور قومی اثاثہ تسلیم کیا۔ یہ فیصلہ آنے والے محققین اور مورخین کے لیے ایک واضح حوالہ بنے گا کہ کشمیر کے مقدمے میں ان کا کردار محض سیاسی نہیں بلکہ تاریخی تھا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جب آج گن کیرج کے پہیے آگے بڑھے تو انہوں نے صرف ایک شخص کو نہیں بلکہ ایک عہد کو رخصت کیا۔ یہ پہیے تاریخ کے صفحے پر وہ سطر لکھ گئے ہیں جسے مٹایا نہیں جا سکتا۔ بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی زندگی اور ان کی آخری رسومات اس بات کی گواہی ہیں کہ قومیں اپنے سچے ترجمانوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں وہ انہیں تاریخ کی علامت بنا دیتی ہیں۔