عمران خان قومی یکجہتی کی علامت ہیں ان سے ملاقات کے بغیر یکجہتی کیسے آئے گی؟ بیرسٹر گوہر
فوٹو: فائل
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان جو قومی یکجتی کی علامت ہیں ان سے ملاقات نہیں ہوسکتی تو قومی یک جہتی کیسے آئے گی؟
قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بلوچستان پر حملہ پورے پاکستان پر حملہ ہے، ہم حکومت و اپوزیشن یک زبان ہو کر بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں، ہم شہدا کے ساتھ ہیں پاکستان آخری دہشتگردکے خاتمے تک لڑے گا۔انہوں نے کہا کہ کسی اگر مگر کے بغیر دہشتگردی کی کوئی گنجائش نہیں، دہشتگرد جہاں بھی ہوگا ہم اس کے ساتھ لڑتے رہیں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بانی چیئرمین کو پمز ہسپتال لایا گیا مگر فیملی سے چھپایا گیا اور پھر وزرا نے اس پر متضاد اطلاعات دیں ،کوئی وزیر کہہ رہا تھا کہ بانی چیئرمین کو پمز لایا ہی نہیں گیا تو کسی وزیر نے کہا کہ بانی چیئرمین کو پمز لایا گیا مگر بیس منٹ بعد واپس لے جایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر بانی چیئرمین جو قومی یکجتی کی علامت ہیں سے ملاقات نہیں ہوسکتی تو قومی یک جہتی کیسے آئے گی۔
ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی آسیہ اسحاق نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہوں ،آج بھارت کرکٹ کو بھی ویپن آف وار کی طرح استعمال کر رہا ہے ۔
آسیہ اسحاق نے کہا کہ بھارت نے بگ تھری کے نام پر فراڈ کیا ہم نے مئی میں بھارت کی ساری اکڑ نکالی تھی اور آئی سی سی انڈین کرکٹ کونسل بن گئی ہے اب اس کی عقل بھی ٹھکانے لگائی ہے۔
جے یو آئی ف کے شاہدہ اختر علی کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے ہر فورم پر کہا ہے کہ دہشتگردی کی لہر پر کنٹرول کرنا چاہئے ہم اپنے علاقوں میں محفوظ نہیں ہیں جبکہ ایوان میں کیوں آوازوں کو دبایا جارہا ہے، ہم پاکستانی ہیں اور رہیں گے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما جمال رئیسانی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو جنگ ہے، نہ ہی کسی تحریک کا حصہ ہے نہ حقوق کی جنگ ہے بلکہ یہ صرف اور صرف دہشتگردی ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے جام شہادت نوش کیا جبکہ غازیوں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں، عوام کو سلام پیش کرتا ہوں لیکن نیشنل ایکشن پلان پر کیوں نہیں بات کر سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف دشمن ملک کو توڑنے کی بات کر رہا ہے اور ہم یہاں وضاحتی بیان دے رہے ہیں، بلوچستان میں ایک بہت بڑا سانحہ ہوا تھا وزیر داخلہ یہاں بیٹھتے لیکن وہ کبھی کسی ایس ایچ او کا ذکر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ شاید بلوچستان کی تاریخ سے ناواقف ہے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان بہادروں کی سرزمین ہے ہمیں منافقت کی چین کی زنجیروں کو توڑنا چاہئے اور ایک آواز بنیں، یہ ایوان اتنا کمزور نہیں ہے،ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان تاقیامت پاکستان کا حصہ رہے گا۔