جعلی حکومتیں ترقی کر رہی ہیں، اصل حکومت میں خیبرپختونخوا پسماندہ کیوں، وزیراعلیٰ سے طالبہ کا سوال
فوٹو: اسکرین شاٹ
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور طالبہ کے درمیان تلخ سوال و جواب ہے جہاں طالبہ نے وزیراعلیٰ سے پوچھا کہ جعلی حکومتیں ترقی کر رہی ہیں جبکہ 13 سال سے آپ کی اصل حکومت میں خیبرپختونخوا پسماندہ کیوں ہے، جس پر سہیل آفریدی نے انہیں حریف جماعتوں کا کارکن قرار دے دیا۔
پشاور میں منعقدہ ینگ لیڈرز کنونشن کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور ایک طالبہ کے درمیان تلخ سوال و جواب دیکھنے میں آیا اور تقریب سیاسی بحث میں بدل گئی۔
ینگ لیڈرز کنونشن کی تقریب کے دوران ایک طالبہ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے سوال کیا کہ جعلی حکومتیں ترقی کر رہی ہیں لیکن خیبرپختونخوا میں 13 سال سے اصل حکومت ہونے کے باوجود صوبہ پسماندہ کیوں ہے؟ آپ ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں، یہ بتائیں کہ اس صوبے کو کیا دیا ہے۔
طالبہ نے کہا کہ جو بھی ترقی ہوئی ہے وہ اراکین صوبائی اسمبلی اور اراکین قومی اسمبلی کے گھروں تک محدود رہی ہے، صوبے میں ہونے والی کرپشن پر آپ نے کیا اقدامات کیے اور اگر دوسرے صوبوں سے موازنہ کیا جائے تو ہمارا صوبہ کہاں کھڑا ہے۔
طالبہ کے سوالات پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا تعلق شاید عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی) یا کسی اور سیاسی جماعت سے ہوگا، جس پر ہال میں ہلچل مچ گئی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ آپ ترقی کی تعریف پہلے واضح کریں، ہم نے اس صوبے کے نوجوانوں کو سوال کرنے کا شعور دیا ہے، آج ایک بہن کھڑے ہو کر صوبے کے چیف ایگزیکٹو سے سوال کر رہی ہیں، یہ ہماری کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ کا تعلق اے این پی، جماعت اسلامی یا کسی اور پارٹی سے ہے تو یہ اور بات ہے، مجھے بات کرنے دیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اے این پی کے دور میں بم دھماکے ہوتے تھے، نشتر ہال بند تھا، ہم نے اسے دوبارہ کھولا، ہم نے نوجوانوں کے لیے ایسے پروگرامز کے مواقع پیدا کیے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی صرف لاہور اور کراچی تک محدود نہیں، ان کے مضافات دیکھیں تو وہاں بھی بدحالی ہے، جنوبی پنجاب میں آج بھی لوگ اسکولوں میں جانور باندھتے ہیں۔