سائنس دانوں کا الٹرا پروسیسڈ غذاؤں پر سخت ضوابط کے اطلاق کا مطالبہ

ان غذاؤں کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے سخت عوامی صحت کی پالیسیز متعارف کروائی جائیں: ماہرین

امریکا کی تین معروف جامعات کی جانب سے حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں الٹرا پروسیسڈ غذاؤں پر صحت کے لیے سگریٹ جتنا نقصان دہ ہونے کی وجہ سے سخت ضوابط کے اطلاق مطالبہ کر دیا۔

تحقیق کے مطابق الٹرا پروسیسڈ غذائیں جان بوجھ کر اس طرح تیار کی جاتی ہیں کہ لوگ انہیں بار بار کھائیں اور ان کے عادی ہو جائیں، بالکل اسی طرح جیسے تمباکو کی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

محققین نے حکومتوں اور صحت کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان غذاؤں کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے سخت عوامی صحت کی پالیسیز متعارف کرائی جائیں۔

مطالعے میں بتایا گیا کہ دنیا کے 50 ممالک سے حاصل کردہ شواہد الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے زیادہ استعمال کو موٹاپے، دماغی تبدیلیوں اور میٹابولک امراض سے جوڑتے ہیں، جن میں پارکنسنز جیسی سنگین بیماریاں بھی شامل ہیں۔

تحقیق کے مطابق حالیہ اندازوں سے پتا چلتا ہے کہ امریکا میں ہر چار منٹ بعد ایک شخص ایسی قابلِ تدارک بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتا ہے، جن کا تعلق براہِ راست الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے استعمال سے ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان غذاؤں کے استعمال پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں صحتِ عامہ کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں، اس لیے سگریٹ کی طرح ان پر بھی واضح وارننگ، تشہیری پابندیاں اور سخت قوانین عائد کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

ہارورڈ، ڈیوک یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف مشی گن کے سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں صنعتوں نے ضوابط سے بچنے اور اپنی مصنوعات کو زیادہ پرکشش بنانے کے لیے یکساں حکمتِ عملیاں استعمال کیں، جو اجتماعی طور پر انسانی حیاتیاتی نظام کو یرغمال بنا لیتی ہیں۔

Load Next Story