سانحہ بھاٹی گیٹ کیس: گرفتار ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 5 روز کی توسیع

ماں اور بیٹی مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے کی

 

ضلع کچہری لاہور نے بھاٹی گیٹ حادثہ کیس میں گرفتار ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 5 روز کی توسیع کردی، عدالت نے ملزمان کو 9 فروری کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

ضلع کچہری لاہور میں بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ماں اور بیٹی مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے کی۔

عدالتی حکم پر مقتولہ سعدیہ ساجد کے والد ساجد حسین اور شوہر مرتضیٰ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

سماعت سے قبل مقتولہ کے والد ساجد حسین نے کمرۂ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں تاحال کسی قسم کی کوئی رقم یا ایک کروڑ روپے کا چیک موصول نہیں ہوا۔

صحافیوں کے سوال پر کہ آیا وہ معاملے کو صلح صفائی کی طرف لے کر جا رہے ہیں، ساجد حسین نے کہا کہ وہ تاحال شدید صدمے میں ہیں اور آج پہلی بار عدالت میں طلبی پر حاضر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب پولیس نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد پانچوں ملزمان کو ضلع کچہری کے بخشی خانے منتقل کیا، جہاں سے انہیں بعد ازاں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

پولیس نے ملزمان کے مزید دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان کا ڈیوٹی روسٹر چیک کرنا ہے تاکہ ان کے کردار کا تعین کیا جا سکے۔

سماعت کے دوران جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے تفتیشی افسر پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ چار دن میں کیا تفتیش کی گئی۔

جج نے ریمارکس دیے کہ اپنے گزشتہ حکم میں تفتیش کے نکات واضح طور پر درج کیے گئے تھے، اس کے باوجود کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے تفتیش کی گئی مگر انہوں نے ابھی تک کچھ نہیں بتایا، جبکہ متوفیہ خاتون اور بچی کی میڈیکل رپورٹ فائل کے ساتھ لف کر دی گئی ہے، جس کے مطابق مین ہول میں گرنے سے بازو سمیت جسم کے مختلف حصوں پر شدید چوٹیں آئیں۔

جج شفقت عباس نے ریمارکس دیے کہ دو قتل ہوئے ہیں اور پولیس آرام سے تفتیش کر کے کچھ بھی نہیں لائی۔

عدالت نے کہا کہ اگر ذمہ داری واسا کی تھی تو پولیس کو خود تفتیش کر کے عدالت کو آگاہ کرنا چاہیے تھا، صرف خطوط لکھ دینا کافی نہیں۔ جج نے مزید کہا کہ اس طرزِ تفتیش میں تو چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ بھی کم معلوم ہوتا ہے۔

سماعت کے دوران گرفتار ملزم سلمان یاسین کمرۂ عدالت میں رو پڑا اور کہا کہ انہیں نہ سونے دیا جاتا ہے اور نہ ہی مناسب جگہ میسر ہے، تاہم وہ تفتیش میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

ملزمان کے وکیل نے بتایا کہ ملزم عثمان یاسین نے ایس پی آفس میں خود گرفتاری دی اور ایک کروڑ روپے کا چیک بھی جمع کروایا، جبکہ وکیل نے سلمان یاسین کو ڈسچارج اور دیگر ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی۔

عدالت نے مقتولہ کے شوہر مرتضیٰ سے بھی استفسار کیا، جس پر انہوں نے کہا کہ اگر موقع پر روشنی کا مناسب انتظام ہوتا اور مین ہول ڈھکا ہوا ہوتا تو آج ان کا گھر اجڑنے سے بچ جاتا۔

عدالت نے پولیس کی مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، بعد ازاں جوڈیشل مجسٹریٹ نے پانچ ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں 5 روز کی توسیع کردی، عدالت نے ملزمان کو نو فروری کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

مقدمے میں پروجیکٹ مینیجر اصغر سندھو، احمد نواز سمیت پانچ ملزمان کو پولیس وین کے ذریعے عدالت لایا گیا تھا۔

Load Next Story