خیبرپختونخوا حکومت کا پولیس ایکٹ فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان

پولیس ایکٹ کو کالعدم قرار دینا آئینِ پاکستان کے دیباچے کی خلاف ورزی ہے، صوبائی وزیر قانون

پشاور:

خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کے پولیس ایکٹ سے متعلق فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا۔

صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ پولیس ایکٹ کو کالعدم قرار دینا آئینِ پاکستان کے دیباچے کی خلاف ورزی ہے، فیصلہ جمہوری طور پر منتخب نمائندوں کے آئینی اختیارات کو مجروح کرتا ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ اس غیر آئینی فیصلے کے خلاف آئین کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، صوبائی حکومت اور صوبائی اسمبلی اس فیصلے کو عدالتی اختیارات سے تجاوز، آئینی حدود کی پامالی اور جمہوری نظام پر براہِ راست حملہ قرار دیتا ہے۔

دوسری جانب ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ غیرآئینی، غیرقانونی اور یکطرفہ طور پر دیا گیا ہے، درخواست میں جن کو فریق بنایا گیا اُن سے جواب طلب نہیں کیا گیا، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو فیڈرل آئینی عدالت میں چیلنج کریں گے، عدلیہ کا کام انتظامیہ کے پالیسی معاملات میں مداخلت کرنا نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے گزشتہ روز خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 میں کے پی پولیس (ترمیمی) ایکٹ 2024 کے ذریعے کی گئی ترامیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا۔

چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس محمد اعجاز خان پر مشتمل پشاورہائیکورٹ کی ڈویژن بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ 2024 کی ترامیم کے تحت سینئر پولیس افسران (بی ایس 18 اور اس سے زائد) کی تعیناتیوں کو وزیر اعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا اور انسپکٹر جنرل آف پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا قانونی اختیار واپس لینا پولیس کی پیشہ ورانہ اور عملی خودمختاری کو غیر آئینی طور پر ختم کرنے کے مترادف ہے۔

عدالت کے مطابق ان ترامیم کے نتیجے میں پولیس کو قانون کی بجائے سیاسی مصلحتوں کا آلہ بنانے کی کوشش کی گئی، جو آئین کے منافی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئینی نظام کے تحت انتظامیہ کو پولیس پر صرف محدود نوعیت کی ’نگرانی‘ حاصل ہے، جس کا دائرہ کار پالیسی سازی اور عمومی نگرانی تک محدود ہے۔

Load Next Story