لبلبے کے کینسر کی تشخیص کیلئے خون کا نیا ٹیسٹ تیار
سائنس دانوں نے ایک نیا خون کا ٹیسٹ تیار کیا ہے جو ممکنہ طور پر لبلبے کے کینسر (Pancreatic Cancer) کی ابتدائی تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے اور ہزاروں جانیں بچا سکتا ہے۔
صرف برطانیہ میں ہر سال تقریباً 10 ہزار 500 افراد لبلبے کے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں، لیکن یہ بیماری نہ صرف علاج میں انتہائی مشکل ہے بلکہ اس کی تشخیص میں بھی بہت پیچیدہ ہے۔
زیادہ تر کیسز اس وقت سامنے آتے ہیں جب بیماری کافی آگے بڑھ چکی ہوتی ہے اور علاج کے آپشنز کافی محدود ہو چکے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے صرف 10 فی صد مریض پانچ سال سے زیادہ زندہ رہ پاتے ہیں اور نصف سے زائد مریض تین ماہ کے اندر موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
تاہم، سائنس دان پُر امید ہیں کہ اس نئے خون کے ٹیسٹ میں Pancreatic Ductal Adenocarcinoma (جو لبلبے کے کینسر کی سب سے عام اور مہلک قسم ہے) کی ابتدائی مراحل میں تشخیص کی صلاحیت ہے۔ ایسا ہونے سے ڈاکٹروں کو مریض کا علاج شروع کرنے کے لیے وقت مل سکے گا اور مریض ky بچ جانے کے امکانات بڑھ جائیں سکیں گے۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف پنسلوینیا اور میو کلینک کے محققین نے کی جو AACR میڈیکل جرنل میں شائع ہوئی۔
اس مطالعے میں انہوں نے لبلبے کے کینسر کے مریضوں اور صحت مند افراد کے خون کے نمونوں میں مختلف مادوں کی جانچ کی۔
تحقیق میں دواؤں میں پہلے سے استعمال کیے جانےو الے دو مارکرز(CA19-9 اور THBS2) کا جائزہ لیا گیا، جو استعمال کرنے پر لبلبے کے کینسر کی اسکریننگ کے لیے درست نہیں ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ CA19-9 کچھ کینسر سے پاک افراد میں بھی زیادہ ہو سکتا ہے (جیسے کہ پینکریاٹائٹس یا بائل ڈکٹ کے مسائل والے افراد میں) اور کچھ لوگ اپنی جینیات کی وجہ سے یہ مارکر پیدا ہی نہیں کرتے۔
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے خون میں دو نئے پروٹینز دریافت کیے(ANPEP اورPIGR) جو ابتدائی لبلبے کے کینسر والے افراد میں صحت مند افراد کے مقابلے میں زیادہ پائے گئے۔
یہ دریافت مستقبل میں لبلبے کے کینسر کی ابتدائی تشخیص اور بروقت علاج کے امکانات کے لیے مثبت ثابت ہوسکتی ہے، اور مریضوں کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔