سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائنگ کا اجلاس کالعدم قرار دے دیا
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائنگ کا اجلاس کالعدم قرار دینے کی سفارش کر دی۔
سینیٹ کی کمیٹی کا اجلاس چیئر پرسن بشری انجم بٹ کی صدارت میں ہوا ،جس میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائنگ کی وائس چانسلر سے متعلق معاملات تفصیل سے زیر غور آئے۔
اجلاس کے دوران عبوری وائس چانسلر طیبہ اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچیں تاہم چیئرپرسن کمیٹی نے واضح کیا کہ انہیں اجلاس میں نہیں بلایا گیا اور ان کی موجودگی ضروری نہیں ہے۔
چیئرپرسن نے کہا انہوں نے کہا کہ میڈم طیبہ پچیس سال سے وی سی کے عہدے پر فائز ہیں اور ان کے خلاف انکوائری جاری ہے، اس کے باوجود وزیر تعلیم نے انہیں عبوری وائس چانسلر تعینات کر دیا۔
چیئرپرسن بشریٰ انجم بٹ کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے پاس وائس چانسلر کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں۔ ان کے مطابق وی سی نے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور ان کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کے ثبوت بھی موجود ہیں۔
چیئرپرسن نے مزید کہا کہ دو کروڑ روپے سے زائد کے انکریمنٹس دے کر انہیں پروفیسر بنایا گیا، وزارت نے وی سی کو نوازا اور پارلیمان کی تضحیک کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیر کمیٹی کو عزت نہیں دے رہا تو سیکریٹری تعلیم بھی ایسا ہی کرے گا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب تک وی سی عہدے سے نہیں ہٹتیں، ان کے خلاف شفاف انکوائری کیسے ممکن ہوگی۔ چیئرپرسن کے مطابق اجلاس میں جس جس نے وی سی کے خلاف بات کی، ان کے خلاف مقدمات درج کر دیے گئے۔
بشریٰ انجم بٹ نے بتایا کہ ایوان صدر کی جانب سے انہیں آگاہ کیا گیا کہ عبوری وی سی کی تعیناتی کے لیے ان سے منظوری نہیں لی گئی اور وزیر تعلیم نے یہ ایجنڈا ایوان صدر کو پیش نہیں کیا تھا۔
اس موقع پر چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کہا کہ اگر ایوان صدر نے منظوری نہیں دی تو تعیناتی نہیں ہو سکتی۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائنگ کی سینیٹ کا اجلاس کالعدم قرار دیا جائے۔
دوسری جانب سینیٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ کراچی میں پرسٹن یونیورسٹی تسلیم شدہ نہیں ہے اور جب وہاں کے طلبہ بیرون ملک جاتے ہیں تو ان کی ڈگری کو قبول نہیں کیا جاتا۔
اجلاس کے اختتام پر سینیٹ قائمہ کمیٹی نے ملک بھر کی جامعات کے دوروں کا فیصلہ بھی کیا تاکہ تعلیمی معیار اور انتظامی امور کا جائزہ لیا جا سکے۔