اچار جلد خراب کیوں ہوجاتا ہے؟ مدت بڑھانے اور محفوظ رکھنے کے آزمودہ گھریلو طریقے
اچار ہمارے کھانوں کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے جو اپنے خوشبودار مصالحوں اور کھٹے میٹھے ذائقے سے عام کھانے کو بھی خاص بنادیتا ہے۔
آم، لیموں، ہری مرچ یا مختلف سبزیوں سے تیار ہونے والا ہر اچار الگ ذائقہ رکھتا ہے اور اسی وجہ سے گھروں میں اسے خاص اہتمام سے بنایا جاتا ہے۔ تاہم اکثر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اچار کب تک قابلِ استعمال رہتا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر جلد خراب ہو جاتا ہے؟
ماہرین کے مطابق اچار کی مدت کا دارومدار اس میں شامل اجزاء، بنانے کے طریقۂ کار اور ذخیرہ کرنے کے ماحول پر ہوتا ہے۔
تیل، نمک، مصالحے اور بعض اوقات سرکہ قدرتی محافظ کے طور پر کام کرتے ہیں جو نہ صرف ذائقہ بڑھاتے ہیں بلکہ بیکٹیریا کی افزائش کو بھی روکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی گھریلو تراکیب میں ان عناصر کا خاص خیال رکھا جاتا ہے تاکہ اچار زیادہ عرصے تک محفوظ رہ سکے۔
مختلف اقسام کے اچار کی شیلف لائف بھی ایک جیسی نہیں ہوتی۔
تیل والے اچار، جیسے آم یا لیموں، اگر درست طریقے سے رکھے جائیں تو ایک سے تین سال تک قابلِ استعمال رہ سکتے ہیں۔
نمک والے اچار عام طور پر چھ ماہ سے ایک سال تک اچھے رہتے ہیں جبکہ سرکے والے اچار ایک سے دو سال تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔
گھروں میں بننے والے عام اچار عموماً چھ ماہ سے ایک سال کے درمیان رہتے ہیں، البتہ اس کا انحصار صفائی اور اسٹوریج کے معیار پر ہوتا ہے۔ بازار سے خریدے گئے تیار اچار کنٹرولڈ پروسیسنگ اور پیکجنگ کی وجہ سے نسبتاً زیادہ عرصہ چل جاتے ہیں۔
اچار کی تازگی برقرار رکھنے کے لیے روزمرہ استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ ہمیشہ خشک اور صاف چمچ استعمال کیا جائے کیونکہ نمی اچار کو خراب کر سکتی ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ اچار مکمل طور پر تیل یا نمک کے محلول میں ڈوبا رہے اور ہر بار استعمال کے بعد جار کو اچھی طرح بند کر دیا جائے تاکہ ہوا اور نمی اندر داخل نہ ہو سکیں۔
محفوظ رکھنے کے لیے صحیح برتن کا انتخاب بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ شیشے یا مٹی کے جار بہتر سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہ تیزابی اجزاء کے ساتھ ردِعمل نہیں دیتے اور ذائقہ برقرار رکھتے ہیں، جبکہ پلاسٹک یا دھاتی برتن طویل مدت کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔
اچار کو ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھنا چاہیے، جیسے کچن کی الماری، کیونکہ زیادہ گرمی یا نمی اس کی عمر کم کر سکتی ہے۔ کم تیل یا نمک والے اچار کو تازہ رکھنے کے لیے بعض اوقات فریج میں رکھنا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ اچار کو وقتاً فوقتاً جانچا جائے۔ اگر پھپھوندی، بدبو یا غیر معمولی بو محسوس ہو تو اسے استعمال کرنے کے بجائے فوراً ضائع کر دینا بہتر ہے۔ درست دیکھ بھال اور صفائی کے اصول اپنائے جائیں تو اچار کئی ماہ بلکہ بعض صورتوں میں برسوں تک اپنا ذائقہ برقرار رکھ سکتا ہے، اور یوں آپ اپنے پسندیدہ اچار سے محفوظ اور مزیدار انداز میں لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔