ایک اہم شخصیت سے ملاقات
msuherwardy@gmail.com
لاہور میں میڈیا نمائیندگان سے اہم سیکیورٹی عہدیدار کی ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلائے جانے، کور کمانڈر پشاور کے دفتر میں اہم سیکیورٹی اجلاس میں شرکت ، شہید فوجی افسر کے جنازے میں شرکت پر کئی سوال ہوئے۔
ان تمام سوالوں کے جواب میں یہی کہا گیا کہ ہم سب کو اس پر خوش ہونا چاہیے، اس کو مثبت انداز میں لینا چاہیے۔ پاکستان کی فوج کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔ ہم ریاست کے لیے کام کرتے ہیں اور جب آپ آئین میں ریاست کی تعریف پڑھیں گے تو اس میں صوبائی حکومتیں شامل ہیں۔ ہم ہر وقت سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر تیار رہتے ہیں۔
ہم کے پی کی حکومت سے بھی اس ضمن میں بھر پور تعاون کے لیے تیار تھے اور ہیں۔ اس میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم سیاسی تناظر میں کیے گئے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا گیا اور گفتگو کو دہشت گردی میں تعاون کی حد تک ہی محدود رکھاگیا ۔یہ کہا گیا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے بھی نیشنل ایکشن پلان ہی کنجی ہے، اس سلسلے میں پختونخواہ میں کی جانے والی حالیہ میٹنگز خوش آئند ہے
یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا۔ یہ الگ بیانئے اور الگ الگ موقف دراصل دہشت گردوں کے حوصلہ بلند کرتا ہے۔ اسی لیے نیشنل ایکشن پلان میں یہ بات طے کر دی گئی تھی ملک میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف ایک موقف اور ایک ہی بیانیہ ہوگا۔ ہم آج بھی سمجھتے ہیں کہ وقت کی ضرورت پالیسی میں یکسوئی اور یک زبان ایک بیانیہ ہے۔
آج سب سے اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز، فوج، پولیس یا ایف سی کی جنگ سمجھی جا رہی ہے۔ حالانکہ یہ پوری قوم کی جنگ ہے، جب تک ہم سب اس کو اپنی جنگ نہیں سمجھیں گے ۔ ہم دہشت گردوں کو شکست نہیں دے سکتے۔ دہشت گردی کے معاملہ پر قوم کو تقسیم کرنا دراصل دہشت گردوں کی سہولت کاری ہے۔ اسی لیے جب دہشت گردی کے واقعہ کے بعد قوم کو تقسیم کر کے کچھ قوتیں دراصل دہشت گردوں کا تحفظ کر رہی ہوتی ہیں۔
اس سوال پر کہ ملک میں دہشت گردوں کو شکت کیسے دی جا سکتی ہے۔ ہم کئی سال سے دہشت گردی کا شکار ہیں۔ لیکن اس کو مکمل ختم نہیں کر سکتے۔ جواب دیا گیا کہ ہمیں اپنے دشمن پرنظر رکھنی چاہیے۔ کیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا نہیں رہا۔ اس لیے ہمارے پاس دہشت گردی کو شکست دینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات مد نظر رکھنی ہوگی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہے اور پاکستان کے اندر تمام سپانسرڈ دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جب ہمارا بیانیہ اور فوکس ٹھیک ہوگا تو نتائج بھی ٹھیک آئیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں کہ اب دہشت گردی سے نبٹنے کا واحد حل افغانستان پر بمباری نہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ سوچ بھی مکمل طورپر درست نہیں۔ ہمیں پاکستان کے اندر بھی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ابھی کافی کام کرنا ہے۔ آپ ترلائی کے واقعہ میں دیکھیں خود کش بمبار پاکستانی ہے۔ یہ درست ہے کہ حالیہ ترلائی امام بارگاہ کے حملہ آور کو دہشتگردانہ حملے کی ٹریننگ افغانستان نے دی۔ لیکن ہے وہ پاکستانی ۔ اس لیے ملک کے اندر بھی دہشت گردی کے ختم کرنے کے لیے جس کام کی ضرورت ہے جب تک وہ بھی نہیں ہوگا تب تک باہر سے ختم بھی کردیں گے تو ختم نہیں ہوگی۔ اندر اور باہر دونوں جگہ صفائی کرنا ہوگی۔ ہم افغانستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اس لیے یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں اور دونوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
آپ کی کوئی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ ہو، اس سے فرق نہیں پڑتا، البتہ دہشت گردی کے خلاف ہمیں متحد ہونا ہے۔ ہمیں قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر ہر گز تقسیم نہیں ہونا بلکہ متحد رہ کر تمام فتنوں کا خاتمہ کرنا ہے، فتنہ الہندوستان درحقیقت بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے۔ دہشت گردی کو مددا سمگلنگ سے بھی ملتی ہے۔ اسی لیے آج سے تین سال قبل 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ ہوتی تھی، جو اب بہت کم ہو چکی ہے۔ بلوچستان کے کچھ علاقوں کے لیے ایرانی ڈیزل چاہیے کیونکہ وہاں پاکستان کی آئل کمپنیاں نہیں ہیں۔ لیکن ہم نے مقدار بہت کم کر دی ہے۔ کیونکہ ایرانی تیل کی اسمگلنگ کا پیسہ بھی بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو جارہا تھا۔، اسمگلنگ کا پیسہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کاکہنا تھا کہ فوج مخالف بیانیہ پر سیاست کرنا ملک کو تقسیم کرنے کی سیاست ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے درمیان کارکردگی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ کس نے عوام کی کتنی بہتر خدمت کی۔ جب خدمت نہ ہو تو فوج مخالف بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ گُڈ گورننس ہی ایک واحد ذریعہ ہے جو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرسکتا ہے۔ گڈ گورننس ہوگی تو لوگوں کا احساس محرومی ختم ہوگا۔
اس سوال پر کہ فوج کے اہم عہدیدار یونیورسٹیوں میں طلبا سے بات چیت کے لیے جا رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل بھی نوجوانوں سے بات چت کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ تھا کہ فوجی قیادت کے تعلیمی اداروں کے دوروں سے یہ بات مزید واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کے عوام خصوصاً نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔ فوج نے نوجوان نسل سے ڈائیلاگ میں محسوس کیا ہے کہ نوجوان فوج کے ساتھ ہیں۔ انھوں نے اس موقع پر پرجوش انداز میں کہا کہ کسی کے باپ میں بھی اتنی طاقت نہیں کہ قوم اور فوج کے درمیان تقسیم پیدا کر سکے۔ ایسی کوششیں ماضی میں بھی ناکام ہوئی ہیں۔ اب بھی ناکام ہیں۔ عوام اور فوج یکسو اور متحد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کوئی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کر سکتا، ہمارا بیانیہ صرف پاکستان ہے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے اس بیان پر کہ پاک فوج صرف چار اضلاع کی فوج ہے ‘کا جواب یہ تھا کہ اپوزیشن لیڈر کا پاک فوج پر حالیہ بیان انتہائی افسوسناک اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ پاک فوج میں پورے ملک کی نمائندگی موجود ہے۔ سب علاقوں سے لوگ فوج میں آتے ہیں۔ پنجاب کی اتنی ہی تعداد ہے جتنی پنجاب کی آبادی ہے۔ صرف گلگت بلتستان اور کشمیر سے فوج میں لوگوں کی تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہے۔ ان کی آبادی دو فیصد کے قریب ہے اور فوج میں ان کی تعداد نو فیصد ہے۔ باقی سب علاقوں سے لوگ ان کی آبادی کے مطابق لیے جاتے ہیں۔