گری ہے جس پہ کل بجلی!

سانحہ ترلائی نے جشنِ بسنت کو گہن لگا دیا۔ سارا ملک ہنوذ سوگوار ہے ۔


تنویر قیصر شاہد February 13, 2026

پنجاب حکومت خوش ہے کہ اُس کا سہ روزہ جشنِ بسنت کامیاب رہا ۔ خدا کا شکر ہے کہ جشنِ بسنت کے دوران ڈور پھرنے سے کسی کا گلہ نہیں کٹا۔ یعنی وزیر اعلیٰ پنجاب ، محترمہ مریم نواز شریف ، نے جن ایس او پیز پر عمل پیرا ہونے کا اعلان کیا تھا، پتنگ بازوں نے اُن پر عمل کیا ۔ مقامی انتظامیہ کو کسی بڑی شکایت کا موقع بھی فراہم نہ ہونے دیا ۔

اہلِ لاہور نے بھی پتنگیں اُڑاتے ہُوئے مطلوبہ ڈسپلن کا پاس رکھا۔ چھ تا آٹھ فروری پتنگ بازوں اور پتنگ سازوں نے اپنی اپنی بساط اور اپنے اپنے دائرے میں رہ کر انجوائے بھی کیا اور مالی مفادات بھی سمیٹے ۔ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ جشنِ بسنت کے پہلے روز اسلام آباد کے مضافات (ترلائی)میں ایک امام بار گاہ پر عین جمعہ کی نماز کے وقت ایک بد بخت ، جہنمی نے خود کش حملہ کیا ۔ اللہ کے حضور جھکے تیس سے زائد نمازی شہید ہو گئے ۔ اور جو شدید زخمی ہُوئے ، اُن کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب بتائی جاتی ہے ۔ درجن کے قریب زخمی ابھی تک اسلام آباد، راولپنڈی کے اسپتالوں میں آئی سی یوز میں موت و حیات کی کشمکش میں پڑے ہیں ۔

 سانحہ ترلائی نے جشنِ بسنت کو گہن لگا دیا۔ سارا ملک ہنوذ سوگوار ہے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے فوری طور پر اپنی وہ خاص سرکاری تقریبات جن میں اُنہیں جشنِ بسنت کے حوالے سے شریک ہونا تھا، فوری منسوخ کر دیں ۔ یہ بھی ایک مستحسن فیصلہ تھا ۔ یہ مگر کہنا اور تسلیم کرنا پڑے گا کہ سانحہ ترلائی کا غم اور دکھ جشنِ بسنت کے شورو غوغا میں دَب کر رہ گیا۔

جشنِ بسنت سے سماج کے مختلف طبقات نے ، مبینہ طور پر، اربوں روپے کمائے ۔ مگر نقادوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ صرف لاہور میں سرکاری سطح پر جشنِ بسنت منانے کی اجازت دے کر دراصل پنجاب کے دیگر شہروں سے امتیازی سلوک کیا گیا ؛ چنانچہ پنجاب حکومت کو یہ کہتے سُنا گیا ہے کہ اگلے مرحلے میں یا اگلی بار ی یہ امتیاز ختم کر دیا جائے گا۔ یہ شکوہ بھی البتہ سامنے آیا ہے کہ رؤسا نے بسنت کا تہوار غریب طبقات سے چھین لیا ہے ۔ لاریب جشن ِ بسنت نے پنجاب کے نوجوان طبقے کو ایک نئے رنگ اور منفرد ڈھنگ سے روشناس کیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز شریف نے ایک تجربے کا رِسک لیا اور کامیاب رہیں ۔

جشنِ بسنت کے تین روزہ پُر لطف ایام کے خاتمے پر جناب شہباز شریف کی مرکزی حکومت نے اِس لیے مسرت اور اطمینان محسوس کیا کہ 8فروری کو پی ٹی آئی کا موعودہ ’’پہیہ جام‘‘ اور ’’یومِ سیاہ‘‘ اور ’’احتجاج‘‘ تقریباً ناکام ہی رہا ۔ اِسے فلاپ کہنا زیادہ بجا ہوگا ۔ شہباز حکومت آٹھ فروری کے احتجاج سے دباؤ میں تو تھی ، لیکن پی ٹی آئی نے اجتماعی طور پر جس بد دِلی کا مظاہرہ کیا، اِس نے تواحتجاج کی رُوح ہی سلب کر لی ۔ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے جس طرح آٹھ فروری کے اعلان شدہ احتجاج میں غیر حاضری کا مظاہرہ کیا ، اِس منظر نے پی ٹی آئی کے کارکنان کو مایوس اور بد دِل کیا ہے ۔

حتیٰ کہ آٹھ فروری کے دن بھی بانی پی ٹی آئی کی ایک ہمشیرہ محترمہ اپنے بیٹوں کے ساتھ جشنِ بسنت میں عملی طور پر شریک رہیں ۔ مریم نوازشریف صاحبہ کے پیدا کردہ جشنِ طرب میں اُن کے مخالفین بھی شریک ہُوئے : ہم ہُوئے کہ تم ہُوئے کہ میر ہُوئے / اُس کے ’’جشنِ بسنت‘‘ کے سب اسیر ہُوئے ! یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ترتیب دیے گئے تین روزہ جشنِ بسنت نے جناب شہباز شریف کی مرکزی حکومت کو پی ٹی آئی کے آٹھ فروری کے احتجاج اور پہیہ جام کے منفی اثرات سے بچایا بھی اور محفوظ بھی رکھا ۔

جشنِ بسنت سے چند روز قبل بلوچستان کے درجن بھر علاقوں میں دہشت گرد بی ایل اے اور فتنہ الہندوستان نے جو خونریزی کی ،اِس کی بازگشت سے سارا ملک دلبرداشتہ، ملول اور سوگوار تھا ۔ ہماری جانباز سیکیورٹی فورسز نے اگرچہ فوری طور پر گرم تعاقب کر کے بی ایل اے کے دو سو کے قریب دہشت گردوں کو جہنم واصل بھی کیا ۔یہاں بھی کہنا پڑے گا کہ بلوچستان میں چالیس کے قریب ہمارے جو لوگ دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے ، لاہور کی بسنت میں یہ غم بھی جزوی طور پر دَب گیا ۔ یعنی خوشی اور غم کی لہریں ساتھ ساتھ چلتی رہیں ۔ شائد زندہ قوموں کی زندگیوں میں ایسے مراحل و مراتب کا دَر آنا فطرت کا ایک حصہ ہے !

شہباز حکومت دوسری طرف یہ جشن بھی منا رہی ہے کہ اُس نے بنگلہ دیش کی حکومت سے مل کر ، بڑی چابکدستی اور حکمت سے، کرکٹ کے میدان میں جارح اور متعصب بھارت کو شکست دی ہے ۔ یہ فتح PCB کی بھی ہے اور BCBکی بھی ۔ ساتھ ہی شکست ICCکی بھی ہے اور BCCIکی بھی ۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے پاکستان اور بنگلہ دیش نے متحد اور یکجہت ہو کر ICCسے اپنی شرائط بھی منوائی ہیں ، کرکٹ منافع بھی محفوظ کر لیا ہے اور جرمانے سے بھی بچ گئے ہیں ۔

پاکستان نے متحدہ عرب امارات، آئی سی سی اور بنگلہ دیش ایسے اپنے دوستوں کی درخواستوں اور کوششوں کو گلے سے لگایا۔ اب 15فروری 2026ء کو سری لنکا میں پاک بھارت کرکٹ ٹاکرا ہوگا ۔ اُن لوگوں کا مگر کوئی علاج نہیں ہے جو یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ جب پاکستان نے بھارت سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ نہ کھیلنے کا اعلان کیا تھا تو اپنے اعلان پر ’’پامردی‘‘ سے کھڑا رہنا چاہیے تھا ۔ عالمی معاملات میں مگر ایسی ضد اور ہٹ دھرمی نہیں چلتی ۔ اگرچہ یہ بھی سچ ہے کہ بھارت نے کرکٹ میں سیاست کو داخل کرکے گند ہی مچایا ہے ۔ اب پاکستان اور بنگلہ دیش کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بھارت نے نتیجہ بھی بھگت لیا ہے۔

اور اب 9فروری2026ء کو حکومت نے عوام پر ایک نئی بجلی گرائی ہے ۔ یوں کہ نیٹ میٹرنگ صارفین سرکاری ٹیرف کے مطابق (مہنگی ترین )بجلی کے بِلز ادا کریں گے ۔ آسان مطلب یہ ہے کہ سولر سسٹم کے تحت بجلی سے استفادہ کرنے والوں کی ’’عیاشیاں‘‘ ختم ۔ حکومت پہلے سولر سسٹم کے تحت بڑے سولر صارفین ( جو گھروں میں سولر سسٹم پر اربوں روپے خرچ کر چکے ہیں)سے بجلی خریدتی بھی رہی ہے ، مگر اب نئے ضوابط کے تحت یہ سہولت اور مراعات بھی ختم ۔ پہلے حکومت سولر سسٹم لگانے کی طرف عوام کو درخواست اور راغب کررہی تھی ، مگر اب سولر سسٹم لگانے والوں کی حوصلہ شکنی کررہی ہے ۔ حکومت پر عوام اعتبار کریں تو کیونکر؟ ہم تو بقولِ غالب اب یہ بھی نہیں کہہ سکتے:’’ گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا ہی آشیاں کیوں ہو۔‘‘ حکومتی بجلیاں ہرآشیاں اور ہر فرد پر گر رہی ہیں۔ایک طرف دہشت گرد تواتر سے عوام پر خونریز دہشت گردی کی بجلیاں گرا رہے ہیں اور دوسری طرف حکومت بجلی کے نرخوں میں آئے روز کمر شکن اضافہ کرکے ۔عوام جائیں تو جائیں کہاں؟

مقبول خبریں