فلپائن کی فوڈ انفلوئنسر کی پراسرار موت، کیا وجہ ’’ڈیول کریب‘‘ ہے؟

ویڈیو میں ایما کو اپنے دوستوں کے ساتھ سمندری گھونگھے اور دیگر آبی جاندار پکا کر کھاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے

فلپائن میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے نے سمندری خوراک کے شوقین افراد کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ خصوصاً زہریلے سمندری کیکڑوں اور دیگر خطرناک آبی حیات کو کھانے سے گریز کریں۔

یہ انتباہ اس وقت جاری کیا گیا جب ایک معروف فوڈ انفلوئنسر کی موت کے بعد شبہ ظاہر کیا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ’’ڈیول کریب‘‘ نامی زہریلا کیکڑا کھایا تھا۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق 51 سالہ فوڈ انفلوئنسر ایما امِٹ 4 فروری کو اپنے سوشل میڈیا مواد کے لیے ساحلی علاقے سے سمندری جاندار جمع کرنے گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے صوبہ پالاون کے ساحلی شہر Puerto Princesa کے قریب واقع مینگروو جنگل سے مختلف اقسام کی شیلفش اکٹھی کیں۔

ویڈیو میں ایما کو اپنے دوستوں کے ساتھ سمندری گھونگھے اور دیگر آبی جاندار ناریل کے دودھ میں پکا کر کھاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ تاہم اگلے ہی روز ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ پڑوسیوں کے مطابق انہیں شدید جھٹکے لگے، جس پر انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ وہاں وہ بے ہوش ہو گئیں اور ان کے ہونٹ نیلے پڑ گئے، جو شدید زہر کے اثرات کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن وہ چھ فروری کو، یعنی مبینہ طور پر زہریلا سمندری جاندار کھانے کے دو دن بعد انتقال کرگئیں۔ واقعے کے بعد مقامی گاؤں لُوزویمِنڈا کی سربراہ لیڈی جیمنگ نے تحقیقات کے لیے حکام کو متوفیہ کے گھر بھیجا۔ تلاشی کے دوران کچرے سے چمکدار خول والے ’ڈیول کریب‘ کی باقیات برآمد ہوئیں، جس کے بعد شبہ مزید گہرا ہوگیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مخصوص کیکڑا انڈو پیسیفک ریف علاقوں میں پایا جاتا ہے اور اس کے جسم میں خطرناک نیورو ٹاکسنز، جیسے سیگزٹوکسن اور ٹیٹروڈوٹوکسن موجود ہوتے ہیں۔ یہی زہریلے اجزا Pufferfish (فُگو مچھلی) میں بھی پائے جاتے ہیں اور چند گھنٹوں کے اندر جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

گاؤں کی سربراہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایما اور ان کے شوہر دونوں تجربہ کار ماہی گیر تھے، اس لیے یہ واقعہ مزید حیران کن ہے۔ ان کے بقول، چونکہ وہ سمندر کے قریب رہتے تھے، اس لیے انہیں معلوم ہونا چاہیے تھا کہ ’’ڈیول کریب‘‘ خطرناک ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے تجربے کے باوجود یہ خطرہ کیوں مول لیا گیا۔

حکام نے شہریوں کو سختی سے ہدایت جاری کی ہے کہ ایسے مشکوک یا زہریلے سمندری جانداروں کے استعمال سے مکمل اجتناب کریں۔ ان کے مطابق اس مہلک کیکڑے کے باعث ماضی میں بھی شہر میں اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ مزید برآں، متوفیہ کے ساتھ موجود افراد کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ اگر کسی میں زہر کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

Load Next Story